ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 178

روحانی خزائن جلد ۳۔ IZA ازالہ اوہام حصہ اول ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں موضوع ہیں اور آنحضرت کے قول سے بذریعہ کشف کے صحیح ہو جاتی ہیں۔ تمَّ كَلَامُهُ اور فتوحات مکیہ میں ابن عربی صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اہل ذکر و خلوت پر وہ علوم لڈ نیہ کھلتے ہیں جو اہل نظر و استدلال کو حاصل نہیں ہوتے اور یہ علوم لدنیہ اور اسرار و معارف انبیاء واولیاء سے مخصوص ہیں اور جنید بغدادی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے تمہیں سال اس درجہ (۱۵۳) میں رہ کر یہ رتبہ حاصل کیا ہے اور ابو یزید بسطامی سے نقل کیا ہے کہ علماء ظاہر نے علم مُردوں سے لیا ہے اور ہم نے زندہ سے جو خدائے تعالیٰ ہے۔ تمَّ كَلَامُهُ ایسا ہی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے رئیس محدثین حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ کے کلمات قدسیہ اس بارہ میں بہت کچھ لکھے ہیں اور دوسرے علماء و فقراء کی بھی شہادتیں دی ہیں مگر ہم اُن سب کو اس رسالہ میں نہیں لکھ سکتے اور نہ لکھنے کی کچھ ضرورت ہے۔ الہام اور کشف کی عزت اور پایۂ عالیہ قرآن شریف سے ثابت ہے ۔ وہ شخص جس نے کشتی کو توڑا اور ایک معصوم بچہ کو قتل کیا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے وہ صرف ایک ملہم ہی تھا نبی نہیں تھا۔ الہام اور کشف کا مسئلہ اسلام میں ایسا ضعیف نہیں سمجھا گیا کہ جس کا نورانی شعلہ صرف عوام الناس کے منہ کی پھونکوں سے منطقی ہو سکے ۔ یہی ایک صداقت تو اسلام کے لیے وہ اعلیٰ درجہ کا نشان ہے جو قیامت تک بے نظیر شان و شوکت اسلام کی ظاہر کر رہا ہے ۔ یہی تو وہ خاص برکتیں ہیں جو غیر مذہب والوں میں پائی (۱۵۳) نہیں جاتیں۔ ہمارے علماء اس الہام کے مخالف بن کر احادیث نبویہ کے مکذب ٹھہرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ہر ایک صدی پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے۔ اب ہمارے علماء کہ جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں انصاف سے