ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 179

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۹ ازالہ اوہام حصہ اول بتلا دیں کہ کس نے اس صدی کے سر پر خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر مجدّد ہونے کا دعوی کیا ہے یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہو رہی ہے مگر حدیث کا تو یہ منشاء ہے کہ وہ مجد دخدائے تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لدنیہ و آیات سماویہ کے ساتھ۔ اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا جس نے اس چودہویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔ کوئی الہامی دعاوی کے ساتھ تمام مخالفوں کے مقابل پر ایسا کھڑا ہوا جیسا کہ یہ عاجز کھڑا ہوا۔ تفكروا و تندموا واتقوا الله ولا تغلوا اور اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوی میں غلطی پر ہے تو پھر آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے انہیں دنوں میں آسمان سے اُتر آوے کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعوئی کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصور ہے کہ اب وہ آسمان سے اتر ہی آوے تا میں ملزم ٹھہر سکوں ۔ آپ لوگ اگر بیچ پر ہیں تو (۱۵۵) سب مل کر دعا کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اتر تے دکھائی دیں اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ اہل حق کی دعا مبطلین کے مقابل پر قبول ہو جایا کرتی ہے لیکن آپ یقیناً سمجھیں کہ یہ دعا ہر گز قبول نہیں ہوگی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں ۔ مسیح تو آپکا لیکن آپ نے اُس کو شناخت نہیں کیا۔ اب یہ امید موہوم آپ کی ہرگز پوری نہیں ہوگی۔ یہ زمانہ گزر جائے گا اور کوئی ان میں سے مسیح کو اترتے نہیں دیکھے گا۔ حالانکہ تیرھویں صدی کے اکثر علماء چودہویں صدی میں اُس کا ظہور معین کر گئے ہیں اور بعض تو چودھویں صدی والوں کو بطور وصیت یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اگر اُن کا زمانہ پاؤ تو ہمارا السلام علیکم انہیں کہو۔ شاہ ولی اللہ صاحب رئیس المحد ثین بھی انہیں میں سے ہیں۔ بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی