ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 175

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۵ ازالہ اوہام حصہ اول آسمان تک کیوں کر پہنچ گئے اور کیا یہ مخالفوں کے لئے ہنسنے کی جگہ نہیں ہوگی کہ حلیہ اول اور اخیر کے اختلاف کی وجہ یہ بیان کی جائے کہ تغیر عمر کے سبب سے حلیہ میں فرق آ گیا ہوگا۔ ایک اور بات ہمارے علماء کے لئے غور کے لائق ہے کہ احادیث میں صرف ایک دجال کا ذکر نہیں بلکہ بہت سے دجال لکھے ہیں اور لِكُلِّ دَجَّالِ عیسی کی مثال پر تدبر کی نظر ڈال کر یہ بات بآسانی سمجھ آسکتی ہے کہ عیسی کے لفظ سے مثیل عیسی مراد ہونا چاہیے اس ہماری بات کو وہ حدیث اور بھی تائید دیتی ہے جو مثیل مصطفے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مہدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں ایسے لفظ ہیں جن سے بصراحت یہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پیشگوئی میں اپنے ایک مثیل کی خبر دے رہے ہیں کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خلق اور خلق میں میری مانند ہوگا يُوَاطِئُ اِسْمُهُ اِسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اِسْمُ أَبِنی یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نام کی ۱۳۸۶ ) طرح اُس کے باپ کا نام ۔ اب دیکھو کہ خلاصہ اس حدیث کا یہی ہے کہ وہ میرا مثیل ہوگا اس صورت میں ایک دانا کو نہایت آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ جیسے حدیث میں ایک مثیل مصطفے کا ذکر ہے ایسا ہی مثیل مسیح کا ذکر بھی ہے نہ یہ کہ ایک جگہ مثیل مصطفے اور دوسری جگہ خود حضرت مسیح ہی آجائیں گے۔ فتدبر ۔ اب ظاہر ہے کہ جس قدر ہم نے اپنے الہامی عقیدہ کی تائید میں دلائل عقلی و نقلی و شرعی لکھے ہیں وہ ہمارے اثبات مدعا کے لیے کافی ہیں اور اگر اس جگہ ہم بطور فرض محال تسلیم بھی کر لیں کہ ہم بکلی شبہات پیش آمدہ کا تصفیہ نہیں کر سکے تو اس میں بھی ہمارا کچھ حرج نہیں کیونکہ الہام الہی و کشف صحیح ہمارا مؤید ہے اس لئے اسی قدر ہمارے لئے کافی ہے۔ ایک متدین عالم کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ الہام اور کشف کا نام سن کر چپ ہو جائے اور لمبی چون و چرا سے باز آجائے اگر مخالف الرائے لوگوں کے ہاتھ میں بعض احادیث کی رو سے کچھ دلائل ہیں تو ہمارے پاس ایسے نفلی و شرعی دلائل ان سے کچھ تھوڑے نہیں ۔ قرآن شریف