ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 172

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۲ ازالہ اوہام حصہ اول کہ بطور اجمالی پیشگوئی پر ایمان لے آویں اور اس کی تفصیل یا اس بات کو کہ وہ کس طور سے ظہور پذیر ہوگی حوالہ بخدا کریں اور میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اقرب بامن جس سے ایمان سلامت رہ سکتا ہے یہی مذہب ہے کہ محض الفاظ پیشگوئی پر زور نہ ڈالا جائے اور تحکم کی راہ سے یہی دعویٰ نہ کیا جائے کہ ضرور اس کا ظہور ظاہری صورت پر ہی ہوگا کیونکہ اگر خدانخواستہ انجام کا رایسا نہ ہوا تو پھر پیشگوئی کی صداقت میں طرح طرح کے شکوک پیدا ہو کر ایمان ہاتھ سے گیا ایسی کوئی وصیت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی کہ تم نے پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرتے رہنا کسی استعارہ یا تاویل وغیرہ کو ہرگز قبول نہ کرنا۔ اب سمجھنا چاہیے کہ جب کہ پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارہ میں خود انبیاء سے امکان ۱۴۲) غلطی ہے تو پھر اُمت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔ ماسوا اس کے ہم کئی دفعہ بیان کر آئے ہیں کہ اس پیشگوئی پر اجماع امت بھی نہیں۔ قرآن شریف قطعی طور پر اپنی آیات بینات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا قائل اور ہمیشہ کے لئے اُس کو رخصت کرتا ہے۔ بخاری صاحب اپنی صحیح میں صرف امامکم منکم کہ کر چپ ہو گئے ہیں یعنی صحیح بخاری میں صرف یہی مسیح کی تعریف لکھی ہے کہ وہ ایک شخص تم میں سے ہو گا اور تمہارا امام ہوگا۔ ہاں دمشق میں عند المنارہ اُترنے کی حدیث مسلم میں موجود ہے مگر اس سے اجماع امت ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ یہ بھی ثابت ہونا مشکل ہے کہ مسلم کا در حقیقت یہی مذہب تھا کہ دمشق کے لفظ سے سچ سچ یہی دمشق مراد ہے اور اگر ایسا فرض بھی کر لیں تو فقط ایک شخص کی رائے ثابت ہوئی مگر پیشگوئیوں کے بارہ میں جبکہ خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں کی رائے اجتہادی غلطی سے معصوم نہیں رہ سکتی تو پھر مسلم صاحب کی رائے کیوں کر معصوم ٹھہرے گی۔ ۱۴۳ میں پھر دوبارہ کہتا ہوں کہ اس بارہ میں عام خیال مسلمانوں کا گو اُن میں اولیاء بھی داخل ہوں اجماع کے نام سے معصوم * نہیں ہو سکتا مسلمانوں نے صورت پیشگوئیوں کو مان لیا ہے اُن کی طرف سے یہ ہرگز دعویٰ نہیں اور نہ ہونا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” موسوم “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)