ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 161
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۱ ازالہ اوہام حصہ اوّل سبیل نہ تھی بجز اس سبیل کے کہ خدائے تعالیٰ نے آپ پیدا کر دی کہ وہ زبر دست رسول بھیجا جس کے ساتھ زبر دست تحریک دینے والے ملائک نازل کئے تھے اور زبر دست کلام بھیجا گیا تھا پھر بعد اس کے آنے والے زمانہ کے لئے خدائے تعالیٰ سورۃ الزلزال میں بشارت دیتا ہے اور اِذَا زُلْزِلَتْ کے لفظ سے اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب تم یہ نشانیاں (۱۱۳) دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ لیلۃ القدرا اپنے تمام تر زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی ہے اور کوئی ربانی مصلح خدائے تعالیٰ کی طرف سے مع ہدایت پھیلانے والے فرشتوں کے نازل ہو گیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے إِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَذٍ تُحَدِثُ أَخْبَارَهَا بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحَى لَهَا يَوْمَيذٍ يَصْدُرُ (۱۱۳) النَّاسُ اَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا جن میں قریب ایک ہزار کے سوار و پیادہ فوج رہتی تھی اور اس جگہ کا نام جو اسلام پور قاضی ما جبھی تھا تو اس کی یہ وجہ تھی کہ ابتدا میں شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی اور منصب قضا یعنی رعایا کے مقدمات کا تصفیہ کرنا ان کے سپر د تھا اور یہ طرز حکومت اس وقت تک قائم و بر قرار رہی کہ جس وقت تک پنجاب کا ملک دہلی کے تخت کا خراج گزار رہا لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ چغتائی گورنمنٹ میں بباعث کاہلی دونستی و عیش پسندی و نالیا فی تخت نشینوں کے بہت سافتور آگیا اور کئی ملک ہاتھ سے نکل گئے انہیں دنوں میں اکثر حصہ پنجاب کا گورنمنٹ چغتائی سے منقطع ہو کر یہ ملک ایک ایسی بیوہ عورت کی طرح ہو گیا جس کے سر پر کوئی سر پرست نہ ہو اور خدائے تعالیٰ کے انجو بہ قدرت نے سکھوں کی قوم کو جو دہقان بے تمیز تھی ترقی دینا چاہا چنانچہ اُن کی (۱۲۴) ترقی اور تنزل کے دونوں زمانے پچاس برس کے اندر اندر ختم ہو کر اُن کا قصہ بھی خواب خیال کی طرح ہو گیا۔ غرض اس زمانہ میں کہ جب چغتائی سلطنت نے اپنی نالیاقتی اور اپنی بدانتظامی سے پنجاب کے اس حصہ سے بکلی دستبرداری اختیار کی تو ان دنوں میں بڑے بڑے زمیندار اس نواح کے خود مختار بن کر اپنے اقتدار کامل کا نقشہ جمانے لگے۔ سو انہیں ایام میں بفضل و احسان الہی اس عاجز کے پردادا صاحب مرزا گل محمد مرحوم اپنے تعلقہ زمینداری کے ایک مستقل رئیس اور طوائف الملوک میں سے بن کر ایک چھوٹے سے علاقہ کے جو صرف چوراسی یا پنچائی گاؤں رہ گئے تھے کامل اقتدار