ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 162

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۲ ازالہ اوہام حصہ اول يَّرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ يعنی اُن دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان مصلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اُس کا ہلا نا ممکن ہے ہلائی جائے گی یعنی طبیعتوں اور دلوں اور 10 دماغوں کو غایت درجہ پر جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبھی اور بہیمی پورے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ اُن کے اندر علوم وفنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی و دماغی طاقتیں ولیاقتیں اُن میں مخفی ہیں سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا اور جو جو ملکات انسان کے اندر ہیں یا جو جو جذبات اس کی فطرت میں مودع ہیں وہ تمام مکمن قوت سے چیز فعل میں آجائیں گے اور انسانی حواس کی ہر یک نوع کی کے ساتھ فرماں روا ہو گئے اور اپنی مستقل ریاست کا پورا پورا انتظام کر لیا اور دشمنوں کے حملے روکنے کے ۱۲۵ لئے کافی فوج اپنے پاس رکھ لی اور تمام زندگی ان کی ایسی حالت میں گذری کہ کسی دوسرے بادشاہ کے ماتحت نہیں تھے اور نہ کسی کے خراج گزار بلکہ اپنی ریاست میں خود مختار حاکم تھے اور قریب ایک ہزار کے سوار و پیادہ ان کی فوج تھی اور تین تو ہیں بھی تھیں اور تین چار سو آدمی عمدہ عمدہ عقلمندوں اور علماء میں سے ان کے مصاحب تھے اور پانچ سو کے قریب قرآن شریف کے حافظ وظیفہ خوار تھے جو اس جگہ قادیان میں رہا کرتے تھے اور تمام مسلمانوں کو سخت تنقید سے صوم وصلوۃ کی پابندی اور دین اسلام کے احکام پر چلنے کی تا کید تھی اور منکرات شرعی کو اپنی حدود میں رائج ہونے نہیں دیتے تھے اور اگر کوئی مسلمان ہو کر خلاف شعار اسلام کوئی لباس یا وضع رکھتا تھا تو وہ سخت مورد عتاب ہوتا تھا اور سقیم الحال اور غر با اور مساکین کی خبر گیری اور پرورش کے لئے ایک خاص سرمایہ نقد اور جنس کا جمع رہتا تھا جو وقتا فوقتا ان کو تقسیم ہوتا تھا۔ یہ ان تحریرات کا خلاصہ ہے جو اس وقت کی لکھی ہوئی ہم کو ملی ہیں جن کی زبانی طور پر بھی شہادتیں بطریق مسلسل اب تتک پائی جاتی ہیں۔ یہ بھی لکھا ہے کہ ان دنوں میں ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا غیاث الدولہ نام قادیان میں آیا اور میر زاگل محمد صاحب مرحوم کے استقلال و حسن تدبیر و تقوی وطہارت و شجاعت و استقامت کو دیکھ کر چشم پر آب ہو گیا اور کہا کہ اگر مجھے پہلے سے خبر ہوتی کہ خاندان مغلیہ میں سے ایک ایسا مرد پنجاب کے الزلزال : ۲ تا ۹