ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 158
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۸ ازالہ اوہام حصہ اول (۱۰۶) لیکن سب سے بڑی لیلتہ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے در حقیقت اس لیلۃ القدر کا دامن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ انسانوں میں دلی اور دماغی قومی کی جنبش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہو رہی ہے وہ لیلتہ القدر کی تاثیریں ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ سعیدوں کے عقلی قومی میں کامل ۱۰۷) اور مستقیم طور پر وہ جنبشیں ہوتی ہیں اور اشقیاء کے عقلی قوی ایک کسی اور غیر مستقیم طور سے جنبش میں آتے ہیں اور جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں بلکہ اُسی زمانہ سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آوے پوشیدہ طور پر انسانی قومی کچھ کچھ جنبش شروع کرتے ہیں اور حسب استعداد ان میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور اس نائب کو نیابت کے اختیارات ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے اُن کے برابر بھی نہیں دیکھ سکتیں آپ ہی یہ حدیثیں سناتے ہو کہ الآيات بعد الماتین اور کہتے ہو کہ بارہ سو برس کے بعد مسیح موعود وغیرہ نشانیوں کا ظاہر ہونا ضروری ہے بلکہ تم میں سے وہ مولوی بھی ہیں جنہوں نے شرطی طور پر کتابیں لکھ ماریں اور چھوا بھی دیں کہ چودھویں صدی کے اوائل میں مسیح اور مہدی موعود کا ظاہر ہونا ضروری ہے لیکن جب خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک نشانوں کو ظاہر کیا تو اول المنکرین تم لوگ ہی ٹھہرے۔ اور قوت ایمانی کے آثار میں سے جو اس عاجز کو دی گئی ہے استجابت دعا بھی ہے اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ جو بات اس عاجز کی دعا کے ذریعہ سے رد کی جائے وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہوسکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہو سکتا لیکن یہ قبولیت کی برکتیں صرف اُن لوگوں پر اپنا اثر ڈالتی ہیں کہ جو غایت درجہ کے دوست یا غایت درجہ کے دشمن ہوں جو شخص پورے اخلاص سے رجوع کرتا ہے یعنی ایسے اخلاص سے جس میں کسی قسم کا کھوٹ پوشیدہ نہیں جس کا انجام بدظنی و بد اعتقادی نہیں جس میں کوئی چھپی ہوئی نفاق کی زہر نہیں وہ بے شک ان برکتوں کو دیکھ سکتا ہے اور ان سے حصہ پاسکتا ہے اور وہ بلاشبہ اس چشمہ کو اپنی استعداد کے موافق شناخت کرلے گا مگر جو خلوص کے ساتھ نہیں ڈھونڈے گا وہ ۱۱۸ اپنے ہی قصور کی وجہ سے محروم رہ جائے گا اور اپنی ہی اجنبیت کے باعث سے بیگا نہ رہے گا۔