ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 157

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۷ ازالہ اوہام حصہ اول اُن راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے (۱۰۴) خواب غفلت سے جاگ تو اُٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن بباعث نقصان استعداد حق کی طرف رخ نہ کر سکے سوفعل ملائک کا جو ربانی مصلح کے ساتھ اُترتے ہیں ہر ایک انسان پر ہوتا ہے لیکن اس فعل کا نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بداثر پڑتا ہے ۔ ۱۰۵ باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید در شوره بوم و خس اور جیسا کہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ مَرَضًا اس مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے جس میں وہ نبی اور وہ کتاب جو اس کو دی گئی ہے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور فرشتے آسمان سے اترتے ہیں روحانی برکات کا جو اپنے مذہب کی اتباع سے اس کو حاصل ہوں اس عاجز سے موازنہ کرے لیکن آج تک کوئی مقابل پر نہیں اُٹھا اور نہ انسان ضعیف اور بیچ کی یہ طاقت ہے کہ صرف (۱۱۵) اپنی مکاری اور شرارتوں کے منصوبہ سے یا متعصبانہ ہٹ سے اس سلسلہ کے سامنے کھڑا ہو سکے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور میں بیچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اس سلسلہ کے سامنے اپنی برکات نمائی کی رو سے کھڑا ہو تو نہایت درجہ کی ذلت سے گرا دیا جائے گا کیونکہ یہ کام اور یہ سلسلہ انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اُس ذات زبر دست اور قومی کی طرف سے ہے جس کے ہاتھوں نے آسمانوں کو اُن کے تمام اجرام کے ساتھ بنایا اور زمین کو اس کے باشندوں کے لئے بچھا دیا۔ افسوس کہ ہماری قوم کے مولوی اور علماء یوں تو تکفیر کے لئے بہت جلد کاغذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ذرہ سوچتے نہیں کہ کیا یہ ہیبت اور رعب 117 باطل میں ہوا کرتا ہے کہ تمام دنیا کو مقابلہ کے لئے کہا جائے اور کوئی سامنے نہ آسکے کیا وہ شجاعت اور استقامت جھوٹوں میں بھی کسی نے دیکھی ہے جو ایک عالم کے سامنے اس جگہ ظاہر کی گئی۔ اگر انہیں شک ہے تو مخالفین اسلام کے جس قدر پیشوا اور واعظ اور معلم ہیں اُن کے دروازہ پر جائیں اور اپنے ظنون فاسدہ کا سہارا دے کر انہیں میرے مقابلہ پر روحانی امور کے موازنہ کے لئے کھڑا کریں پھر دیکھیں کہ خدائے تعالی میری حمایت کرتا ہے یا نہیں۔ اے خشک مولویو! اور پُر بدعت زاہدو! تم پر افسوس کہ تمہاری آنکھیں عوام الناس سے زیادہ تو کیا (1) البقرة : 11