ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 142
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۲ ازالہ اوہام حصہ اول افسوس کہ ہماری قوم کے لوگ استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے سخت پیچوں میں پھنس گئے ہیں اور ایسی مشکلات کا سامنا اُنہیں پیش آ گیا ہے کہ اب اُن سے بآسانی نکلنا ان لوگوں کے لئے سخت دشوار ہے اور جو نکلنے کی راہیں ہیں وہ اُنہیں قبول نہیں کرتے ۔ مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو اُن کا لباس زرد رنگ کا ہوگا ۔ اس لفظ کو ظاہری لباس پر حمل کرنا کیسا لغو خیال ہے زرد رنگ پہننے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس لفظ کو ایک کشفی استعارہ قرار دے کر معبرین کے مذاق اور تجارب کے موافق اس کی تعبیر کرنا چاہیں ایک یہ کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اُس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہوگی پی کی تعلیم کراس کر دے گا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ار این دارای کول کی دورفرما کر جواہرات علوم و حقائق و معارف اُن کے سامنے رکھ دے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اور اُن میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نا دار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقہ کے موتیوں سے اُن کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے اُن کو دئے جائیں گے۔ دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کا فرتک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مرا در بھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے چل ڈالے گا اور اُن لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کی بے شرمی اور نجاست خواری ہے اُن پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ بنکی ندارد بلکہ ایک بدنما ٹینٹ اس میں نکلا ہوا ہے ان کو بین حجتوں کی سیف قاطعہ سے ملزم کر کے اُن کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کا فرجو دین محمد مکی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔ غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر