ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 131
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۱ ازالہ اوہام حصہ اول نجاست اور ہڈیوں کی فروخت سے وہ فوائد حاصل کرتے ہیں کہ اس سے پہلے زمانوں میں اعلیٰ درجہ کے غلوں کی فروخت میں وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور نہ صرف یہی آرام کی صورتیں ہیں بلکہ نظر اُٹھا کر دیکھو تو تمام اسباب معاشرت و حاجات سفر و حضر کے متعلق وہ آرام کی سبیلیں نکل آئی ہیں جو اس سے پہلے وقتوں میں شاید کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوں گی (22) پس اس مبارک گورنمنٹ کے زمانہ کو اگر اس امن کے زمانہ میں سے مشابہت دیں جو حضرت نوح کے وقت میں تھا تو یہ زمانہ بلا وجہ اس کا مثیل غالب ہوگا ۔ اب جب کہ یہ ثابت ہو چکا کہ بچے مسیح نے اُس زمانہ میں آنے کا ہرگز وعدہ نہیں کیا جو جنگ و جدل اور جور و جفا کا زمانہ ہو جس میں کوئی شخص امن سے زندگی بسر نہ کر سکے اور نیک لوگ پکڑیں جائیں اور عدالتوں میں سپرد کئے جائیں اور قتل کئے جائیں بلکہ مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اُن پر فتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہوں گے جیسا کہ اُن پہلے زمانوں میں کئی لوگ ایسے پیدا بھی ہو چکے ہیں جنہوں نے مسیح ہونے کا دعوی کیا تھا اسی وجہ سے مسیح نے تاکید سے کہا کہ میرا آنا اُن اوائل زمانوں میں ہر گز نہیں ہوگا اور شور اور فساد اور جور و جفا اور لڑائیوں کے دنوں میں ہر گز نہیں آؤں گا بلکہ امن کے دنوں میں آؤں گا ہاں اس وقت باعث غایت درجہ کے امن و آرام کے بے دینی پھیلی ہوئی ہوگی اور (۵۸) محبت الہی دلوں سے اُٹھی ہوئی ہوگی جیسا کہ نوح کے وقت میں تھا سو یہ ایک نہایت عمدہ نشان ہے جو مسیح نے اپنے آنے کے لئے پیش کیا ہے اگر چاہو تو اس کو قبول کر سکتے ہو۔ اس جگہ اس سوال کا حل کرنا بھی ضروری ہے کہ مسیح کس عمدہ اور اہم کام کے لئے آنے والا ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ دجال کے قتل کرنے کے لئے آئے گا تو یہ خیال نہایت ضعیف اور بودا ہے کیونکہ صرف ایک کا فر کا قتل کرنا کوئی ایسا بڑا کام نہیں جس کے لئے ایک نبی کی ضرورت ہو خاص کر اس صورت میں کہ کہا گیا ہے کہ اگر مسیح قتل بھی نہ کرتا تب بھی دجال خود بخود پگھل کرنا بود ہو جا تا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کا آنا اس لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” زمانہ سے ہونا چاہیے۔ (ناشر ) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ”بلاشبہ ہونا چاہیے۔( ناشر )