ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 130
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۰ ازالہ اوہام حصہ اول ۵۵ کے تحت میں وہ لوگ زندگی بسر کرتے ہوں گے جن میں مسیح موعود نازل ہوگا۔ یاد رکھنا ☆ چاہیے کہ حضرت نوح کا زمانہ باعتبار اپنی معاشرت کے اصولوں کے نہایت امن کا زمانہ تھا لوگ اپنی لمبی لمبی عمروں کو نہایت آسائش اور امن اور خیر و عافیت سے بسر کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ سخت درجہ کے غافل ہو گئے تھے معلوم نہیں کہ اُس وقت کوئی شخصی سلطنت تھی یا جمہوری اتفاق سے اس درجہ پر عامہ خلائق کے لئے ہر طرح سے آسودگی پیدا ہوگئی تھی بہر حال اس زمانہ کے لوگ آرام پانے میں اور امن و عافیت میں زندگی بسر کرنے میں اس زمانہ کے اُن لوگوں سے بہت مشابہ ہیں جو گورنمنٹ برطانیہ کے سایہ عاطفت کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے جس قدر اسباب آرام اور امن اور خوشحالی کے ۵۲ رعیت کے لئے مہیا کئے گئے ہیں اُن کا شمار کرنا مشکل ہے گویا اُن کی اس زندگی کو ایک نمونہ بہشت کا بنادیا گیا ہے لیکن غایت درجہ کے آرام پانے سے اور نہایت درجہ کے امن کی وجہ سے یہ آفت دلوں میں پیدا ہوگئی ہے کہ دنیا کی زندگی نہایت شیریں متصور ہو کر دن بدن اس کی محبت دلوں میں بڑھتی جاتی ہے جس طرف نظر ڈال کر دیکھو یہی خواہش جوش مار رہی ہے کہ دنیا کی یہ مراد حاصل ہو جائے وہ مراد حاصل ہو جائے اور باعث امن پھیل جانے کے دنیا کی ہر یک چیز کا قدر بڑھتا جاتا ہے۔ وہ مزروعہ زمین جس کو سکھوں کے عہد میں کوئی مفت بھی نہیں لے سکتا تھا لاکھوں روپیوں پر فروخت ہو رہی ہے اور یہاں تک مفاد کی راہیں کھل گئی ہیں کہ لوگ میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعتِ حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لا سکتے اگر یہ امن اور آزادی اور بے تعصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک نہ کئے جاتے اگر یہ امن اور آزادی اور بے تقصی ۵۵ حاشيه اُس وقت کے قیصر اور کسری کی گورنمنٹوں میں ہوتی تو وہ بادشاہتیں اب تک قائم رہتیں ۔ منہ