ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 125
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۵ ازالہ اوہام حصہ اول امامکم منکم اور دوسری حدیث جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح اول کا حلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور طرح کا فرمایا ہے اور مسیح ثانی کا حلیہ اور طور کا ذکر کیا ہے جو اس عاجز کے حلیہ سے بالکل مطابق ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ ان دونوں حلیوں میں تناقض صریح ہونا کیا اس بات پر پختہ دلیل نہیں ہے کہ در حقیقت مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور ۔ ایک اور بات قابل توجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ضد تو اس بات پر ہے کہ ابن مریم کے اُترنے کے بارہ میں جو حدیث ہے اس کو حقیقت پر حمل کرنا چاہیے لیکن ان کے بعض عقلمندوں سے جب اس حدیث کے معنے پوچھے جائیں کہ ابن مریم اُترے گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا تو ابن مریم کے لفظ کو تو حقیقت پر ہی حمل رکھتے ہیں اور صلیب اور خنزیر کے بارہ میں کچھ دبی زبان سے ہماری طرح استعارہ اور مجاز سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ پس وہ لوگ اپنی اس کارروائی سے خود ملزم ٹھہرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اُن پر یہ حجت وارد ہوتی ہے کہ ان تین لفظوں میں سے جو ابن مریم کا اُترنا اور صلیب کا توڑنا اور خنزیروں کا قتل کرنا ہے دو لفظوں کی نسبت تو تم آپ ہی قائل ہو گئے کہ بطور استعارہ ان سے اور معنے مراد ہیں تو پھر یہ تیسرا کلمہ جو ابن مریم کا اُترنا ہے کیوں اس میں بھی بطور استعارہ کوئی اور شخص مراد نہیں ؟ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان خیالات مجموعہ تناقضات پر جمے رہنا طریق عنظمندی و فرزانگی ہے یا وہ معارف قريب بفهم و مطابق عقل ہیں جو اس عاجز پر کھولے گئے ہیں۔ ماسوا اس کے اور کئی طریق سے اُن پرانے خیالات پر سخت سخت اعتراض عقل کے وارد ہوتے ہیں جن سے مخلصی حاصل کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے بلکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا صریح ذکر ہے اور ایک جگہ خود مسیح کی طرف سے فوت ہو جانے کا اقرار موجود ہے