ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 124
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۴ ازالہ اوہام حصہ اول موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دوکان نہیں بلکہ چھپیں ہزار اور خنزیر ہر روز لنڈن میں سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی اللہ کی یہی شان ہونی چاہیے کہ وہ دنیا میں اصلاح خلق کے لئے تو آوے مگر پھر اپنی اوقات عزیز ایک مکروہ جانور خنزیر کے شکار میں ضائع کرے حالانکہ توریت کے رو سے خنزیر کو چھونا بھی سخت معصیت میں داخل ہے پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہوگی اور دن رات یہی کام ۴۳ پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گورخر اور خرگوش دنیا میں کیا کچھ کم ہیں تا ایک ناپاک جانور کے خون سے ہاتھ آلودہ کریں۔ اب میں نے وہ تمام خا کہ جو میری قوم نے مسیح کے ان سوانح کا کھینچ رکھا ہے جو دوبارہ زمین پر اترنے کے بعد اُن پر گزریں گے پیش کر دیا ہے عقلمند لوگ اس پر غور کریں کہ کہاں تک اس میں خلاف قانون قدرت باتیں ہیں۔ کہاں تک اس میں اجتماع نقیضین موجود ہے۔ کہاں تک یہ شان نبوت سے بعید ہے؟ لیکن اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ یہ تمام ذخیرہ رطب و یابس کا صحیحین میں نہیں ہے۔ امام محمد اسمعیل بخاری رحمہ اللہ نے اس بارہ میں اشارہ تک بھی نہیں کیا کہ یہ صیح آنے والا در حقیقت اور سچ سچ وہی پہلا میچ ہوگا بلکہ انہوں نے دو حدیثیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی لکھی ہیں جنھوں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور ہے اور کیونکہ ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ ابن مریم تم میں اُترے گا اور پھر بیان کے طور پر کھول دیا ہے کہ وہ ایک تمھا را امام ہوگا جو تم میں سے ہی ہو گا۔ پس ان لفظوں پر (۲۳) خوب غور کرنی چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لفظ ابن مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہارا امام ہو گا جو تم سے ہی ہوگا اور تم میں سے ہی پیدا ہوگا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وہم کو دفع کرنے کے لئے جو ابن مریم کے لفظ سے دلوں میں گذر سکتا تھا ما بعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرما دیا کہ اُس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو بل هو