ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 119

روحانی خزائن جلد ۳ ١١٩ ازالہ اوہام حصہ اول دشمن نہیں ہیں وہ تو ہمارے شکار ہیں عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اُٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا سو تم اُن کے جوشوں سے گھبرا کر نومیدمت ہو کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آپنچے ہیں ۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مخالفانہ جوش سے بھرے ہوئے آج تمہیں نظر آتے ہیں تھوڑے ہی زمانے کے بعد تم انہیں نہیں دیکھو گے ۔ حال میں جو آریوں نے ہم لوگوں کی تحریک سے مناظرات کی طرف (۳۳) قدم اُٹھایا ہے تو اس قدم اُٹھانے میں گو کیسی ہی سختی کے ساتھ اُن کا برتاؤ ہے اور گو گالیوں اور گندی باتوں سے بھری ہوئی کتابیں وہ شائع کر رہے ہیں مگر وہ اپنے جوش سے در حقیقت اسلام کے لئے اپنی قوم کی طرف راہ کھول رہے ہیں اور ہماری تحریکات کا واقعی طور پر کوئی بد نتیجہ نہیں ہاں یہ تحریکات کو نہ نظروں کی نگاہ میں بد نما ہیں مگر کسی دن دیکھنا کہ یہ تحریکات کیوں کر بڑے بڑے سنگین دلوں کو اس طرف کھینچ لاتی ہیں ۔ یہ رائے کوئی ظنی اور شکی رائے نہیں بلکہ ایک یقینی اور قطعی امر ہے لیکن افسوس اُن لوگوں پر جو خیر اور شر میں فرق نہیں کر سکتے اور شتاب کاری کی راہ سے اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں خدائے تعالیٰ نے ہمیں مداہنہ سے تو صاف منع فرمایا ہے لیکن حق کے اظہار سے باندیشہ اس کی مرارت اور تلخی کے باز آجانا کہیں حکم نہیں فرمایا ۔ فتدبروا ايها العلماء المستعجلون الا تقرون القرآن مالكم كيف تحكمون میرے ایک مخلص دوست مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی جو نو تعلیم یافتہ جوان اور (۳۴) تربیت جدیدہ کے رنگ سے رنگین اور نازک خیال آدمی ہیں جن کے دل پر میرے محبّ صادق اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کی مربیانہ اور اُستادانہ صحبت کا نہایت عمدہ بلکہ خارق عادت اثر پڑا ہوا ہے وہ بھی جواب قادیاں میں میرے ملنے کے لئے آئے وعدہ