ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 116

روحانی خزائن جلد ۳ ١١۶ ازالہ اوہام حصہ اول جو ایمانی غیوری سے بہت دور پڑی ہوئی ہے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر د بالیا ہے۔ اس سخت آندھی کے چلنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں بھی کچھ غبار سا پڑ گیا ہے اور ان کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایسے خیالات پر زور دیتے ہیں جن کا کوئی اصل صحیح حدیث و قرآن میں نہیں پایا جاتا ہاں یورپ کی اخلاقی ۲۷ کتابوں میں تو ضرور پایا جاتا ہے اور ان اخلاق میں یورپ نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ ایک جوان عورت سے ایک نامحرم طالب کی بکلی دل شکنی مناسب نہیں سمجھی گئی مگر کیا قرآن شریف یورپ کے ان اخلاق سے اتفاق رائے کرتا ہے؟ کیا وہ ایسے لوگوں کا نام دیوت نہیں رکھتا؟ میں ایسے علماء کو محض اللہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسی نکتہ چینیاں کرنے اور ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جا پڑے ہیں اگر وہ مجھ سے لڑنے کو تیار ہوں تو اپنی خشک منطق سے جو چاہیں کہیں لیکن اگر وہ خدائے تعالیٰ سے خوف کر کے کسی قد رسوچیں تو یہ ایسی بات نہیں ہے جو ان کی نظر سے پوشیدہ رہ سکے نیک بخت ۲۸ ۲۹ بقيه حاشيه تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید مغیرہ کی ز رہے ایسا ہی ولید مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ - وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ هَمَّازٍ مَشَاءِ بِنَمِيمٍ مَّنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ - عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ - سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُوْمِ لا دیکھو سوره القلم الجزء نمبر ۲۹ یعنی تو ان مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزومند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجومت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے۔ ان کی چرب زبانی کا خیال مت کرو۔ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی القلم : ۹ تا ۱۷ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ولید بن مغیرہ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)