ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 113

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۱۳ ازالہ اوہام حصہ اول پہلے کفار نے کبھی نہیں دیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ (۲۲) سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بت پرستوں کے ان بتوں کو جو اُن کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے توڑا بھی ہے۔ اسلام نے مداہنہ کو کب جائز رکھا اور ایسا حکم قرآن شریف کے کس مقام میں موجود ہے بلکہ اللہ جلشانہ مداہنہ کی ممانعت میں (۲۳) صاف فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے باپوں یا اپنی ماؤں کے ساتھ بھی ان کی کفر کی حالت میں مداہنہ کا برتاؤ کریں وہ بھی ان جیسے ہی بے ایمان ہیں اور کفار مکہ کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ۔ یعنی اس بات کو کفار مکہ دوست رکھتے ہیں۔ کہ اگر تو حق پوشی کی راہ سے نرمی اختیار کرے تو وہ بھی تیرے دین میں ہاں میں ہاں ملا دیا کریں مگر ایسا ہاں میں ہاں ملانا خدائے تعالیٰ کو منظور نہیں ۔ غرض آیت قرآنی جو معترض نے پیش کی ہے وہ اگر کسی بات پر دلالت کرتی ہے تو صرف اسی بات پر کہ معترض کو کلام الہی کے بجز ادنی قسم کے اناجوں یا بکریوں کے دُودھ کے اور کوئی غذا نہ تھی جب سن بلوغ پہنچا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے لئے کسی چا وغیرہ نے باوجود آنحضرت کے اول درجہ کے حسن و جمال کے کچھ فکر نہیں کی بلکہ پچیس برس کی عمر ہونے پر اتفاقی طور پر محض خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایک مکہ کی رئیسہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے پسند کر کے آپ سے شادی کر لی یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۲۱) کے حقیقی چا ابو طالب اور حمزہ اور عباس جیسے موجود تھے اور بالخصوص ابو طالب رئیس مکہ اور اپنی قوم کے سردار بھی تھے اور دنیوی جاہ و حشمت و دولت و مقدرت بہت کچھ رکھتے تھے مگر باوجود ان لوگوں کی ایسی امیرانہ حالت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ایام بڑی مصیبت اور فاقہ کشی اور بے سامانی سے گذرے یہاں تک کہ جنگلی لوگوں کی بکریاں چرانے تک نوبت پہنچی اور اس درد ناک حالت کو دیکھ کر کسی کے آنسو جاری نہیں ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی القلم : ١٠