اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 512

اتمام الحجّة — Page 291

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۹۱ اتمام الحجة ہے تو بس یہی کہ ان کی فطرت میں یہودیوں کی صفات کا خمیر بھی موجود ہے ورنہ یہ کسی نیک بخت آدمی کا کام نہیں ہے کہ قرآن کریم کی ظاہر ترکیب کو توڑ مروڑ کر اور آیات کے غیر منفک تعلقات کو ایک دوسری سے الگ کر کے اور بعض فقرے اپنی طرف سے زائد کر کے کوئی امر ثابت کرنا چاہے اگر اسی بات کا نام ثبوت ہے تو کونسا امر ہے جو ثابت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ہر یک ملحد اور بے ایمان اپنے مقاصد اسی طرح ثابت کر سکتا ہے۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے معنے اسی صورت میں اس کتاب کے معنے کہلاتے ہیں کہ جب اس کی ترتیب اور تعلقات فقرات اور سیاق سباق محفوظ رکھ کر کئے جائیں۔ لیکن اگر اس کتاب کی ترکیب کو ہی زیروز بر کیا جائے اور عبارت کے اعضا کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے اور نہایت دلیری کر کے بعض فقرات اپنی طرف سے ملا دیئے جائیں تو پھر ایسی خود ساختہ عبارت سے اگر کوئی مدعا ثابت کرنا چاہیں تو کیا یہ وہی یہودیانہ تحریف نہیں ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم میں ایسے لوگ سور اور بندر کہلائے جنہوں نے اسی طرح توریت میں ملحدانہ کاروائیاں کی تھیں۔ اگر ایسے ہی خائنانہ تصرفات اور تحریفات سے حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہو سکتی ہے تو پھر ہمیں تو قرار کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہوگئی۔ مگر اس بات کا کیا علاج کہ خدا تعالیٰ نے ایسے محرفوں کا نام خنزیر اور بوز نہ رکھا ہے اور ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان کی صحبت سے پر ہیز اور اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم الہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں مگر صرف اس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جب تک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترجیح اور ترتیب کو زیروز بر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔ اب ناظرین خود مولوی صاحب موصوف کی کتاب کو دیکھ لیں کہ کیا وہ ایسی ہی کا رروائیوں سے پُر ہے یا کہیں انہوں نے ایسا بھی کیا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسے طور سے پیش کی ہے کہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ ثابت کر کے دکھلا دیا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے اس ۱۵