اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 512

اتمام الحجّة — Page 290

۲۹۰ روحانی خزائن جلد ۸ اتمام الحجة تباهیک بکتابک وهو أصل تبابك وإني عرفت سرّك ومعماه، وإن لم يَدْرِ القـوم مـعـنـاه۔ وما تريد إلا أن تفتتن قلوب السفهاء ، وتخدع الجهلاء، لتكون لك عزّة في الأشقياء ، وتفوز في الأهواء ، وهذا خاتمة الكلام، فتدبّر كالعقلاء ولا تقعد كالعمين۔ هـداك الـلـه هـل تــرضـى العواما لكي تستجلبن منهم ۔ وهل في ملة الإسلام أثر من الكلم التي تبرى خصاما اعندك حجة إجماع قوم أضاعوا الحق جهلا واهتضاما ومثلك أُمة قتـلـت حـسيــــنــا إذا وجدتُ كمنفرد إماما تمت حطاما مولوی رسل بابا صاحب امرتسری کے رسالہ حیات مسیح پر ایک اور نظر اور نیز ہزار روپیہ انعامی جمع کرانے کے لئے درخواست ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ان دنوں میں مولوی صاحب مندرج العنوان نے ایک کتاب حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کرنے کے لیےلکھی ہے جس کا نام حیات اسی رکھا ہے۔ لیکن اگر یہ پوچھا جائے کہ انہوں نے باوجود اس قدر محنت اٹھانے اور وقت ضائع کرنے کے ثابت کیا کیا ہے تو ایک مصنف آدمی یہی جواب دے گا کہ کچھ نہیں۔ اگر مولوی صاحب موصوف کی نیت بخیر ہوتی اور ان کے اس کا روبار کی علت غائی حق الامر کی تحقیق ہوتی نہ اور کچھ تو وہ اس رسالہ کے لکھنے سے پہلے قرآن شریف کی ان آیات بینات کو غور سے پڑھ لیتے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ایسی صاف طور پر ثابت ہو رہی ہے کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئے اور دفن کئے گئے ۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب موصوف محکم اور بین آیات سے آنکھ بند کر کے گزر گئے اور بعض دوسری آیات میں تحریف کر کے اور اپنی طرف سے اور فقرے ان کے ساتھ ملا کر عوام کو یہ دکھلانا چاہا کہ گویا ان آیتوں سے حضرت عیسیٰ کی حیات کا پتہ لگتا ہے۔ لیکن اگر مولوی صاحب کی اس مفتر یا نہ کاروائی سے کچھ ثابت ہوتا بھی ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' منصف ہونا چاہیے۔(ناشر)