استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 494

استفتاء — Page 116

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۶ استفتاء مجھے کوئی نشان نہیں دکھلاتے اور معقول جواب نہیں دیتے حالانکہ بحث کے لئے یہ صاف طریق اس کے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ وید کی پابندی سے اور اس کی شرتیوں کے حوالہ سے بحث کرے اور ہم قرآن شریف کی پابندی سے اور اس کی آیتوں کے حوالہ سے بحث کریں۔ پس چونکہ وہ محض جاہل تھا اور یہ بھی اس میں طاقت نہیں تھی کہ ہر ایک مقام میں وید کی شرتی پیش کر سکے اس لئے وہ چالا کی سے ہمارے اصل مطالبہ کو تحریر میں ہی نہیں لاتا تھا۔ ہاں ٹھٹھے اور ہنسی سے بار بار آسمانی نشان مانگتا تھا۔ غرض ہم اس جگہ اپنا آخری خط نقل کر دیتے ہیں جو اس کے آخری رقعہ کے جواب میں لکھا گیا تھا اور وہ یہ ہے: جناب پنڈت صاحب ۔ آپ کا خط میں نے پڑھا۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔ آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں ۔ آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔ یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کھلے ہیں گویا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بیباکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر کرتا ہے یہ خود آپ کی نا مجھی ہے۔ معمر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں جس کا اطلاق خدا پر نا جائز نہیں اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کیلئے آتا ہے کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔ خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا اور سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلت اور تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں اور ان کی نظر سے وہ امور اس وقت تک مخفی رکھے جاتے ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قضا و قدر نازل ہو جائے۔ پس اس مخفی کا روائی کے لحاظ سے خدا کا نام ماکر ہے۔ دنیا میں ہزاروں نمونے اس کے پائے جاتے ہیں ۔ سولیکھر ام کے معاملہ میں خدا کا مکر یہ ہے کہ اول اس کے مونہ سے کہلوایا کہ میں خیر الماکرین سے اپنی نسبت نشان مانگتا ہوں ۔ سو اس درخواست میں اس نے ایسا عذاب مانگا جس کے اسباب مخفی ہوں اور ایسا ہی وقوع میں آیا کیوں کہ جس شخص کو شدھ کرنے کے لئے اس نے اتوار کا دن مقرر کیا تھا اور اتوار کے دن آریوں کا ایک خوشی کا جلسہ قرار پایا تھا جیسا کہ عید کا دن ہوتا ہے تا اس شخص کو شدہ کیا جائے۔ سو وہی خوشی کے اسباب اس کیلئے اور اس کی بقيه حاشيه قوم کیلئے ماتم کے اسباب ہو گئے اور خیر الماکرین کے نام کو خدا تعالیٰ نے تمام آریوں کو خوب سمجھا دیا۔ منہ