استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 494

استفتاء — Page 111

روحانی خزائن جلد ۱۲ استفتاء اصرار سے لکھوائی تھی اور چونکہ مجھے خدا تعالی کے وعدوں پر وثوق تھا اس لئے میں نے بھی اس کو قبول کر لیا تھا۔ (۳) اب وہ مشکل جس کے لئے اس استفتاء کی ضرورت پڑی صرف اسی قدر نہیں کہ آریہ صاحبوں نے اس راقم پر خفیہ سازش کا الزام لگایا بلکہ ہماری قوم کے بعض بزرگ لوگوں نے بھی ان سے اتفاق کر لیا اور یہ چاہا کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی جس کی تکذیب کا نتیجہ معاہدہ کے کاغذات کے رو سے اسلام کی تکذیب ہے کسی طرح باطل ٹھہرائی جائے چنانچہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنة اور ایسا ہی بعض چند اور مولویوں نے عام طور پر یہ رائے شائع کر دی ہے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ چنانچہ انہوں نے ایک مخط میری طرف بھی بھیج دیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ” میں نے اپنی نیک نیتی سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی یعنی لیکھرام کی موت صرف ایک اتفاقی امر تھا جس میں خدا کا کچھ دخل نہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کیوں یہ امر ثابت شدہ مان لیا جائے کہ پیشگوئی سچی ہوئی۔ اور کیوں یہ قبول نہ کیا جائے کہ یہ ایک اتفاقی موت سے جو پیشگوئی کے زمانہ میں وقوع میں آگئی ۔ اس تکذیب کی ہمیں اپنے ذاتی اغراض کے لئے تو کچھ پرواہ نہ تھی لیکن چونکہ معاہدہ کے کاغذات تلاشی کے وقت میں پکڑے گئے اور صاحب ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس کے حضور میں پڑھے گئے اور ہر ایک دشمن دوست کو ان سے اطلاع ہو گئی تو اب ایسی سچائی جس میں فروگذاشت کرنے سے اسلام پر بے جا حملہ ہوتا ہے قابل در گذر نہیں ۔ اسی اشد ضرورت کی وجہ سے یہ تمام رونکہ اد اہل الرائے کی خدمت میں پیش کرنی پڑی تا کہ وہ دیکھیں کہ کس قدر ظلم کا ارادہ کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے ان خیالات کے ظاہر کرنے کے وقت یہ نہیں سوچا کہ ان تاویلوں سے دنیا میں کسی نبی کی پیشگوئی قائم نہیں رہے گی کیونکہ ہر ایک جگہ اس وہم کا دروازہ کھلا ہے کہ یہ اتفاقی واقعہ ہے۔ پس اگر یہی رائے کچی ہے تو انہیں اقرار کرنا چاہیے کہ تمام نبیوں کی نبوت پر کوئی بھی ثبوت نہیں اور سب اتفاقی واقعات ہیں۔ توریت اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا ہے اور ایک مفسد آدمی کسی بچی پیشگوئی کو بڑی آسانی سے اتفاقی امر کہہ سکتا ہے لیکن میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ تمام شبہات اس قسم کے ہیں کہ جیسے ایک دہریہ مصنوعات کو ایک نکما سلسلہ ظہرا کر خدا تعالیٰ کے وجود کی نسبت شبہات پیدا کر لیتا ہے اور دنیا کے تمام نظام کو اتفاقی امر ٹھہراتا ہے اور پھر جب سمجھ آتی ہے اور خدا کا فضل اس کے شامل حال ہوتا ہے اور اس عالم کی ترتیب ابلغ اور محکم کو مشاہدہ کرتا ہے اور دقائق صنعت باری اور اس کی لطیف حکمتوں پر اطلاع پاتا ہے تو نا چار پہلی رائے اس کو چھوڑنی پڑتی ہے۔ سو یقینا سمجھنا چاہیے کہ یہ اعتراضات بھی ایسے ہی ہیں اور یہ اعتراضات اسی وقت تک دل میں اٹھتے ہیں کہ جب تک ایک پیشگوئی کے باریک پہلوؤں پر نظر نہیں پڑتی اور خدا تعالی کی خدائی کے انتظام کو ناقص سمجھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے شہبے ہمیشہ ان لوگوں کے دلوں (۴)