عصمتِ انبیاءؑ — Page 752
مردود مذہب کی یہ نشانی ہے کہ تازہ کلام کا نور اس میں پایا نہیں جاتا ۴۹۲ مذہب کا انکار کرنا مستوجب سزا نہیں بلکہ بے باکی اور شوخی اور بدزبانی مستوجب سزا ٹھہراتی ہے ۵۴۳ مذاہب مروجہ میں سے کون سامذہب حق پر، زیادہ مفید اور انسانی زندگی کا اصل مقصد حاصل کرادینے والا ہے کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے لوگوں کا جمع ہونا ۵۷۳ اپنی ذاتی خاصیت منوانے کے لئے کسی مذہب کے لئے کچھ ضرورت نہیں کہ جبر اور تلوار کی دھمکی سے اپنی سچائی کا اقرار کرا دے ۶۳۰ نادان مولویوں اور پادریوں کے فتووں کی وجہ سے عوام الناس کی رائے کہ ہمارے مذہب میں جہاد روا ہے ۶۳۲ مذہب میں خرابی کی وجہ غلط قسم کے فتوے دینے والے مولوی ہیں ۶۳۶ سچا مذہب وہ ہے جو اپنی ذاتی خاصیت اور دلائل قاطعہ سے کام لے نہ تلوار سے ۶۳۶ مذہب کا تازہ بتازہ وحی اور زندہ نشان پیش کرنا ۶۸۴ کسی مذہب سے بغض نہیں ۶۸۸ علامہ مجلسی سے تہتر مذاہب کے اتفاق والی حدیث کا حوالہ طلب کرنا ۴۲۷ح مرہم عیسیٰ مرہم عیسیٰ کا ذکر ہر مذہب کے اطباء نے کیا۔اس سے ثابت ہے کہ مسیح کے زخموں کیلئے ان کے حواریوں نے یہ مرہم بنائی ۳۶۱ح طب کی کتابوں میں اس نسخہ کا ذکر کہ یہ نسخہ حواریوں کا بنایا ہوا ہے ۳۶۱ح مسجد مسجد مبارک کے متعلق الہام ۵۲۵ مسجد کے راستہ میں دیوار کھینچنے پر چارہ جوئی کے لئے عدالت میں نالش کرنا ۵۹۴ مسلمان حضرت مسیح موعود ؑ کے وقت مسلمانوں کی حالت ۴۷۱ پادریوں کے حملوں کے باعث مسلمانوں میں بدعتوں کا بکثرت پیدا ہونا اور سنت کو ترک کرنا ۱۸ حکومت برطانیہ کے مسلمانوں پر احسانات کا ذکر ۳۱۸ مسلم اخبار نویسوں کی حالت زار ۳۴۱،۳۴۴ مسلم فلاسفروں اور منطقیوں کی حالت زار کا ذکر ۳۴۵ عام مسلمانوں کی حالت ارتکاب معاصی وغیرہ ۳۵۰،۳۵۱ مسلم پیروں اورگدی نشینوں کا ذکر ۳۶۴،۳۵۰ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں اختلافات کا ذکر ۳۵۹ مسلمان بنی نوع کے حقوق تلف کرتے ہیں اور عیسائی خدا کے حقوق ۶۳۹ مسلمان قادر خدا سے لاپرواہ ہیں ۶۸۵ موجودہ زمانہ کے مسلمان علماء علماء کاصدی کے سر پر مسیح کے آنے کا انتظار کرنا مگر جب وہ آگیا تو اُن کا خدا کے کلام کو افتراء خیال کرنا ۱۱ اس زمانے کے علمائے سُوکی بدحالت کا ذکر ۱۱تا۱۷ مسلم علماء کی حالت زار کا ذکر ۳۱۳،۳۱۴،۳۱۹،۳۲۰،۳۲۱ وہ جنازوں کے پیچھے صدقات لینے کیلئے چلتے ہیں ۳۱۴ ہمارا کلام اچھے اور نیک کے متعلق نہیں بلکہ ہم نے ان کے اشرارکا ذکر کیا ہے ۳۱۴ح موجودہ زمانہ کے علماء کی حالت زار ۳۱۴ روٹی کے ایک ٹکڑے کی خاطر وہ اپنے ایمان کی دولت دے دیتے ہیں ۳۱۶ اس زمانے کے علماء آخرت کو بکلی بھول چکے ہیں ۳۱۶ اس زمانے کے علماء شریعت میں تحریف کرنا اپنا مسلک سمجھتے ہیں ۳۱۵ موجودہ زمانے کے علماء کی خرابیوں کا ذکر ۳۱۳تا۳۴۱ ان کا ذکر و تسبیح محض دکھاوے کا ہے ۳۱۵