عصمتِ انبیاءؑ — Page 723
۔جو شخص محبوب سے دور رہے گا۔وہ ہمیشہ نفسِ دنی کا شکار رہے گا۔اگر تجھے دیدار کی خواہش ہے تو پاک دل ہو جا۔یہ بات مشکل نہیں ہے۔ُتو اس ُمراد کو عقل کے زور سے کیا ڈھونڈتا ہے۔خدا کی وحی ہی منہ کی کالک کو دھو سکتی ہے۔عقل تو سارے جہان کے پاس ہے اس پر فخر نہ کر کیونکہ تیرے جیسے بہتیرے پڑے پھرتے ہیں۔دل کا علاج تو دِلدار کا کلام ہے اُس کے سوا جو علاج بھی لوگ تجویز کریں وہ فضول ہے۔تو جدائی کا زہر چکھ رہا ہے اور نا ُمر اد ہے مگر پھر بھی وحی والہام سے منکر ہے۔پانی نہ پینے سے ُتو جاں بلب ہو رہا ہے پھر بھی آبِ حیات سے رو گردان ہے۔ہر اُس شک کا علاج جو دلوں میں پیدا ہو وہ خدا کی وحی کے شفاخانہ میں ہے۔عقل پرالہام کا احسان ہے کہ اُس کی برکت سے ہر کمزور خیال پختہ ہو جاتا ہے۔اُس نے صرف گمان کیا اور اِس نے دکھلایا۔اُس نے دل میں ایک بات سوچی اور اُس نے وہ راز ہی کھول کر رکھ دیا۔اُس نے گرایا اور اس نے ہاتھ میں دیا۔اُس نے امید دلائی اور اِس نے پوری کر دی۔وہ چیز جس نے ہمارے دل کے ہر بت کو توڑ دیاوہ خدائے لاثانی کی وحی ہی تو ہے۔وہ چیز جس نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھایاوہ خدائے مہربان کا الہام ہی تو ہے۔وہ چیز جس نے دلی یقین کا جام پلایاوہ اُس معشوق کی گفتار ہی تو ہے۔محبوب کا وصل اور اُس کے جامِ شراب کی مستی سب اُس کے الہام ہی سے حاصل ہوئی۔اے وہ شخص جس نے اپنی امیدیں خدا سے توڑ لی ہیں توبہ کر اور اپنے اس فساد سے باز آجا۔اس ذلیل دنیا کا عیش تو تھوڑی سی دیر کی چیز ہے آخر کار خدا سے ہی واسطہ پڑنا ہے۔دشمنی تکبر اور ناز نخرہ کو ترک کر دے تا کہ تیرا خاتمہ گمراہی پر نہ ہو۔جب تو اس شکار گاہ سے اپنا بوریا بستر باندھ لے گا تو پھر تو اِن ملکوں اور شہروں میں واپس نہیں آئے گا۔اے دین سے بے خبر انسان۔دین کا غم کھا۔کیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے۔دیکھ اپنے اس غم سے غفلت نہ کریوکہ تجھے مشکل کام درپیش ہے