عصمتِ انبیاءؑ — Page 720
۔تجھے محبوب کی کچھ بھی خبر نہیں یونہی اندھا دھند قدم اٹھائے چلا جا رہا ہے۔خدا کے کلام کے بغیر تو ایک کیڑے کی طرح ہے اور خدا کے جا ِم وصل کے سوا تو ُمردہ ہے۔وہ یقین جو خدا تجھے بخشتا ہے اُسے تیرا اپنا خیال کس طرح پا سکتا ہے۔ایک شخص تو وہ ہے جو اپنے معشوق کے منہ سے نکتے اور اسرار سنتا ہے۔اور دوسرا شخص وہ ہے جو اپنے خیالات کی بنیاد پر شک اور گمان میں مبتلا ہے پس کس طرح یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔چونکہ تو اُس شراب کا مزا نہیں جانتا اس لئے نادانی سے فضول بھونکتا رہتا ہے۔ُتو خدا اُسے سمجھ جو خود آواز دیتا ہے نہ کہ اُسے جو کسی کے وہم کا نتیجہ ہے۔اس دلیل سے یہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ میں خدائے واحد کلام کیا کرتا ہے۔ورنہ دین صرف ایک کہانی بن جاتا ہے ایسا دین سچائی سے بیگانہ ہے۔وہ دین خدا کی طرف سے نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے ہے جو دائمی یقینی وحی اپنے اندر نہ رکھتا ہو۔دین تو وہی دین ہوتا ہے جس سے خدا کی وحی کسی وقت بھی جدا نہ ہو۔وحی اور دین خدا چونکہ دونوں جڑواں چیزیں ہیں۔پس اگر ایک جاتی رہے گی تو دوسری بھی گم ہو جائے گی۔مخلوقات یقین کے بغیر کیونکر نجات پا سکتی ہے۔لازمی ہے کہ اس صورت میں خلقت حق سے منہ پھیر لے۔بغیر خدا کے دل میں یقین کس طرح پیدا ہو، اس کے لئے یا تو کلام درکار ہے یا دیدار۔اے وہ شخص کہ تو ظن کے راستہ پر مغرور ہے تو عقل مندنہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے۔وہ نفس امارہ جو سینکڑوں حرص وہوا کا غلام ہے، بغیر یقین کے اس سے کیونکر باز رہ سکتا ہے۔جب تو کسی جنگل میں شیر کو دیکھ لیتا ہے تو وہاں سے بھاگنے میں دیر نہیں کرتا۔اسی طرح جب تیرے سامنے بھیڑیا آجاتا ہے تو تیرا دل تڑپنے لگتا ہے اور تجھے بہت ڈر لگتا ہے صفحہ ۴۸۳۔پس یقین کے اس دعویٰ کے ساتھ جو تجھے خدا تعالیٰ اور روز جزا کے متعلق ہے۔پھر تو کس طرح گناہِ کبیرہ کرتا ہے۔کیا خدا تیرے نزدیک ایک بھیڑئیے جیسا بھی نہیں ہے