عصمتِ انبیاءؑ — Page 719
۔اے وہ شخص کہ ُتو دولت کی خاطر دیوانہ ہو رہا ہے کیا خوب! دین کے معاملہ میں اتنی فروگزاشت!۔یہ تو عیش کا وقت اور خوشی کا موسم ہے۔ُتو کس سوگ اور ماتم میں پڑا ہوا ہے۔تیرے پاس تو خدا کی طرف سے دین کا رہبر پہنچ گیا۔اب ُتو بھی مَردان دین میں سے ہو جا اور عورتوں کی طرح مت بن۔اُٹھ اور دوست کے لئے کام کر۔اور اس باغ وبہار کی طرف ایک نظر ڈال۔ورنہ موت ایک ہیبت ناک اژدھا ہے جو تجھے جلدی ہی پکڑ لے گا۔نادان نہ بن۔وہ بادِ صبا دوست کے ہاں سے ایسی خوشبو لائی ہے گویا وہ دم بھر میں بہار کا موسم لے آئی ہے۔مگر تو نے اپنے لئے خزاں کو پسند کیا ہے میں نہیں جانتا کہ خزاں میں تو نے کیا فائدہ دیکھا۔یار تو مجھے زندہ کرنے آیا تھا مگر تو اپنے ہاتھوں ہی مردار بن رہا ہے۔گمراہی کی وجہ سے ُتو قصوں کو پیش کرتا ہے کہ یہ ہیں اہل کمال کی کرامات۔اگر ان قصوں میں کوئی اثر ہوتا تو تیرا دل ناپاکی سے بہت دور ہوتا۔اگر ُتو ہزاروں قصے بھی بیان کرتا ہے تب بھی تیرے دل کی خباثت کہاں دور ہو سکتی ہے۔ان قصوں سے کوئی راستہ نہیں کھلتا۔لاکھوں قصے بیان کرتا پھر وہ کس کام کے ہیں۔کچھ مدت ُتو اہل یقین کی صحبت میں رہ تا کہ تجھے حق شناس آنکھیں ملیں۔تیرا باطن تو شیطان سیرت ہے اور زبان پر ابدالوں کے قصے ہیں۔خدا کی طرف سے جب دن روشن ہے تو ُتو بھی آنکھیں کھول اور چمگادڑ پُناچھوڑ دے۔چاند اور سورج کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہوا کرتا (تو ہی اندھا ہے) پس اپنے خدا سے بصیرت مانگ۔اے نااہل !ساری مشکل یہی ہے کہ تو حقیقت راز کا طالب نہیں ہے۔یہ نہ کہو کہ مَیں دین کا محافظ ہوں اور مَیں خود ہی دین مسکین کا طبیب بھی ہوں۔تیرے دل میں تو ہزاروں بیماریاں ہیں۔پھر تو ایسے دل سے کیا امید رکھتا ہے۔خدا سے آندھی طلب کر تا کہ وہ تیرا سب کوڑا کرکٹ اڑا کر لے جائے۔خدا کے سوا علاج کا اور کوئی راستہ نہیں۔آنکھیں کھول یہ کھیل کی جگہ نہیں ہے