عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 718 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 718

۔اور اُس نے بارہا اس قدر نشان دکھائے کہ معرفت کے سینکڑوں دروازے کھول دئیے۔پھر بھی تو انکار سے سر ہلاتا ہے اور تو نے یہ کام آسان سمجھ لیا ہے۔ُتو اُس یار کی طرف سے بے پروا ہو گیا ہے اور اُس حسن اور اُس گفتار کی طرف سے لاپروا۔مردہ لاشوں کو تو اپنی بغل میں کھینچتا ہے اور زندہ) غیر فانی(محبوب سے بیزار ہے۔تو نے کسی کی بابت سنا ہے کہ وہ دوست سے لاپروا ہو۔عشق اور پھر صبر یہ دو کام بہت مشکل ہیں۔کیا یہی عاشقِ زار کا حال اور طریقہ ہوا کرتا ہے؟ اور اے مردار کیا دلبر کی یہی قدر ہوا کرتی ہے۔عاشقوں میں تو صدق کے آثار پائے جاتے ہیں اے تاریک دل انسان تجھے عشق سے کیا واسطہ؟۔جب اُس گلی سے تیرے پاس اس حسین محبوب کا پیغام بر پہنچا۔تو ُتو نے اس کی یہ عزت کی کہ اسے کافر کہتا ہے اور ُگھرک کر اسے اپنے دروازہ سے نکالتا ہے۔تو لاکھوں نشان دیکھتا ہے پھر بھی بے دینی کی وجہ سے تو انکار کرتا ہے۔تو اپنے تئیں عالم سمجھتا ہے شاید اسی لئے غداری سے ایسی فضول باتیں کرتا ہے۔جب تک تیری خودی تجھ میں سے نہ نکلے گی۔تب تک یہ شرک کی رگ تجھ سے دور نہ ہو گی۔تیری کوشش میں برکت نہ پڑے گی۔جب تک تیرے دل کا دھواں سر تک نہ پہنچے گا۔دوست اُس وقت ظاہر ہو گا جب تو اپنی ہستی سے پورے طور پر علیحدہ ہو جائے گا۔تو غم سے آزادنہ ہو گا جب تک سوز غم سے نہ جلے گا اور موت سے آزادنہ ہو گا جب تک فنا نہ ہو گا۔وہ کیسی بیہودہ جان اور بدن ہے جو نہیں جلتا۔ایسے دل کو آگ لگا دے جو عشق میں کباب نہ ہو۔اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کرلے اگر وہ خدا کے عشق سے آبادنہیں۔اپنے پیر کو جسم سے کاٹ کر ُجدا کر دے اگر وہ صداقت کا راستہ اختیار نہیں کرتا صفحہ ۴۸۲۔خدا کی طرف سے اُس شخص پر آفرین ہو جو اپنے محبوب کے لئے نفسانیت سے الگ ہو گیا۔جس نے اپنے دوست کا ٹھکانا اپنے دل میں بنا لیا اور ہوا وہوس سے سینکڑوں منزل دور بھاگ گیا۔وہ خودی سے دور ہوا اور خدا کو پا لیا۔وہ فنا ہو گیا اور رہنما کے ہاتھ کو حاصل کر لیا