عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 717 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 717

۔اے وہ شخص جو سجادہ پر بیٹھا ہوا ہے یہ کیا جنون ہے جو تیرے سر میں گھس گیا ہے۔یہ بات کسی کے عقل وفہم میں بھی نہیں آسکتی کہ ہاتھی کا کام مکھی سے ہو سکتا ہے۔جب تجھے خدا کا پیغام پہنچ گیا تو پھر تو اپنے بُرے انجام سے کیوں نہیں ڈرتا۔اے ُبھتنے کیا یہی تیری فرمانبرداری ہے کہ تیرے دل نے خدا کا حکم قبول نہیں کیا۔تو لغو دلائل پیش کرتا ہے۔حق سے بیزاری کی اصل وجہ تیرے نفس کی خباثت ہے۔جو بات قرآن سے ثابت ہے اے نادان تو اُس سے سر پھیرتا ہے۔سینکڑوں نشان چمکتے ہوئے سورج کی طرح ظاہر ہو گئے لیکن تیرے نزدیک یہ جھوٹ یا فریب ہیں۔آخر آنکھیں اسی لئے ہوتی ہیں کہ ان کی مدد سے انسان راستہ کا واقف ہو جائے۔واہ وا! یہ عجیب آنکھیں ہیں کہ ان سے آفتاب بھی نظر نہیں آتا۔اگر تیرے دل میں خدا کا خیال ہوتا تو اتنی بے پروائی تجھ سے ظہور میں نہ آتی۔تو جان ودل کے ساتھ اس کا راستہ ڈھونڈتا اور وفاداری کے ساتھ اس کی طرف دوڑتا۔جس شخص کا دل کسی معشوق سے لگ جاتا ہے وہ اس کی خبر کسی واقف سے پوچھتا ہے۔اور اگر محبوب کی ملاقات میسر نہیں آتی تو وہ دوست کے پاس سے خط کا طالب ہوتا ہے۔اُسے بغیر دلآرام کے آرام نہیں آتا کبھی اس کے چہرہ پر نظر ہوتی ہے تو کبھی اس کے کلام پر۔اے وہ شخص جو دل میں اس کی محبت رکھتا ہے تجھے تو اس کے پاس بیٹھنے کے بغیر صبر ہی نہیں آسکتا۔اگر اتفاقاً کبھی اُس سے جدائی ہو جائے تو تیری جان تیرے جسم سے جدا ہونے لگتی ہے۔تیرا دل اُس کے ہجر سے کباب ہوتا ہے اور اُس کے چلے جانے سے تیری آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں۔پھر جب وہ حسن اور وہ چہرہ کسی گلی میں تیری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔تو دیوانہ وار تو اس کا دامن پکڑ کر یوں کہتا ہے کہ تیرے نہ دیکھنے کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا۔تجھے ایک حقیر مخلوق سے تو اتنی محبت ہوتی ہے لیکن اُس خدا کی طرف سے تو بالکل لاپروا ہے۔ایک ناچیز ذرّہ کے ساتھ تو ایسی وفاداری لیکن اُس پیار ے دوست کی طرف سے تو لاپروا ہے۔اُس نے مہربانی فرما کر ایک بندہ کو بھیجا تا کہ تجھے شکوک اور انکار سے رہائی بخشے