عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 716 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 716

۔جب تک اُس کا فضل تیرے لئے دروازہ نہ کھولے تو ُتو اگر سینکڑوں فضولیاں بھی کرتا ہے سب بیکار ہیں۔وہ خدا جس نے ایک حَکَم کا وعدہ اپنے لطف اور رحم کی راہ سے کیا تھا۔وہ ازل سے یہ جانتا تھا کہ مخلوقات شک وشبہات میں پڑ کر اپنا راستہ بھول جائے گی۔ورنہ پھر حَکَم کا کام کیا ہو گا؟ ٹھیک راستے پر چلنے والے انسان کو راہ دکھانے کا کیا فائدہ۔حَکَم تو گمراہ کے لئے درکار ہوتا ہے تاکہ وہ اس کو سیدھا رستہ دکھائے۔تو یہ نہ کہہ ہم خود دین کے عالم ہیں۔ایسی باتوں سے توبہ کر۔اندھے کو اندھا کس طرح راستہ دکھا سکتا ہے جو بھی واقف راہ ہے وہ خدا کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے۔دین بغیر کسی دیندار کے حاصل نہیں ہوتا۔دنیا کا کتا تو بغیر ُمردار کے کچھ نہیں جانتا۔منہ پر یار کی باتیں ہیں مگر دل بجھا ہوا ہے گویا مردے پر زندہ کے کپڑے ہیں۔اگر ُتو ریت کو بہت اونچی جگہ بھی لے جائے تو ہوا کی ذرا سی حرکت اسے گرا دے گی۔گھر وہی ہے جسے معمار نے بنایا ہو۔نہیں تو سیلاب سے دیواریں گر پڑیں گی۔یہ زمانہ تو ہزاروں طوفانوں کا زمانہ ہے اور گھر کی بنیاد کھوکھلی ہے۔یہ عجب نالایق قوم ہے کہ ایسے گھر کے باوجود معمار سے لاپروا ہے۔جو کچھ اس ناپاک قوم نے دین کے ساتھ معاملہ کیا وہ یزیدنے اماموں کے ساتھ بھی نہیں کیا۔پھر بھی تو کہتا ہے کہ مجھے دین کی خاطر کسی اور انسان کی ضرورت نظر نہیں آتی۔اے وہ شخص جو گھاٹے اور نقصان پر خوش ہے یہ دین دین نہیں بلکہ اس کا دشمن ہے۔دین تو خداوند قدیر ہی تجھے سکھاتا ہے ورنہ وہ ایک رسم ہے خام۔بدصورت اور ذلیل۔اے کمینے صحیح مسلم نے تجھے مسلمان نہ کیا اور صحیح بخاری نے تیرے سر کا بخار اور زیادہ کر دیا۔یہ بہت سی ہڈیاں تیری جھولی میں پڑی ہوئی ہیں اور تیری جان میں ایک ذرہ بھی مغز نہیں ہے صفحہ ۴۸۱۔ُتو تو اندھا ہے پھر بھی تیرے دل میں یہ ہوس ہے کہ کوئی تجھے آنکھوں والا کہے۔اس خیال سے تو تیرا مر جانا اچھا ہے اور ایسی غذا سے تیرا زہر کھا لینا بہتر ہے