عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 715 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 715

۔تکبر سے نہیں بلکہ ادب کے ساتھ اور ان اسرار کے کھلنے کے لئے اس سے مدد مانگ۔اپنے آنسوؤں کے ساتھ اپنے بستر کو ترکر۔پھر زخمی دل کے ساتھ یوں عرض کر۔کہ اے علیم خدا۔پوشیدہ رازوں کے واقف تیرے علم تک انسان کا خیال کہاں پہنچ سکتا ہے۔جب فرشتوں کو بھی وہ نور نظر نہ آیا۔جو تو نے آدم میں پوشیدہ رکھا تھا۔تو ہم کیا ہیں اور ہمارا علم کیا چیز ہے بغیر تیرے عقل اور تمیز کو بھی بے حد خطرہ ہے۔ہم خطا کار ہیں اور ہمارا کام بھی غلط ہے اور ہمارا سب کام ہماری جلد بازی کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔اگر یہ شخص جو ہمیں تیری طرف بلاتا ہے تیری طرف سے ہی ہے اور کون تجھ سے بہتر حقیقت حال کو جانتا ہے۔تو ُتو ہمارے گناہ بخش اور ہماری آنکھیں کھول تا کہ ہم مخالفت اور انکار کی حالت میں نہ مریں۔ورنہ ہم سے اس ابتلا کو دور کر کہ تو رحیم، قادر اور غفار ہے۔جب اخلاص والے لوگ دعا کرتے ہیں صدق، عاجزی اور گریہ وزاری کے ساتھ۔تو اُس دعا سے آسمان والوں میں شور برپا ہو جاتا ہے اور وہاں سے ُنصرت اور پناہ کا حکم پہنچ جاتا ہے۔پس اے طالب! تو کہاں ہے اور کیوں نہیں آتا؟ اُس بارگاہِ احدیت کے حضور۔تو صدق اور سوز وگداز سے دعا کر تا کہ خدا کا دروازہ تجھ پر کھلے۔خودی سے اپنا حال خراب نہ کر تو ُتو چمگادڑ ہے آفتاب کا کام نہ کر۔جب کسی کی عاجزی حد کمال کو پہنچ جاتی ہے تو یار کی مدد کا وقت آجاتا ہے۔پھر ُتو اُس کی نصرت کیوں نہیں مانگتا۔تو گمراہی کے قدم کے ساتھ دور چلا گیا ہے۔نہ تو زمانہ کا حال دیکھتا ہے نہ قوم کی حالت تیرا دل اندھوں کی طرح ہے اور زبان ملامت کے لئے کھلی ہوئی ہے۔اے وہ شخص کہ تیری آنکھ تکبر سے ڈھکی ہوئی ہے میں کیا کروں جو تیری آنکھیں کھلیں۔اگر تیرے دل میں سچی طلب ہے تو بے ادبی کی وجہ سے خود روی نہ کر۔خدا کی راہ کا بھید خود خدا ہی سے طلب کر۔تو خدا کی طرح نہیں ہے اپنی جگہ پر رہ۔اے انسان ہوش کر کہ انسانی عقل اپنی نظر میں ہزاروں نقائص رکھتی ہے۔سرکشی تو شیطانی طریق ہے اور انسانی فطرت کے برخلاف