عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 714 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 714

۔لیکن وہ یار خودنازل ہوتا ہے تاکہ دشمنوں کو دو دو ہاتھ دکھائے۔صادقوں کے یہی نشانات ہوتے ہیں اُن کی خاطر فرشتے جنگ کرتے ہیں۔اگر بشر اس مخفی جنگ کو دیکھتا تو خدا کے راستے پر چلنے والوں کا راستہ اختیار کر لیتا۔ہر دشمن جو عداوت کی راہ سے اٹھتا ہے تو خدائے معین خود اُس کا سر کچل دیتا ہے۔جب بندہ اُس محبوب کا دوست بن جاتا ہے تو بادشاہ اُس کی رکاب کے ساتھ دوڑتے ہیں۔جس نے بھی اپنی جان خدا کے لئے قربان کی ہمارے خدا نے بھی اس کی قدر خوب پہچانی۔اُس کا دشمن کتوں سے بھی بدتر ہے وہ بداصل خدا کی اوکھلی میں کوٹا جاتا ہے۔خدائے علیم کی یہ عادت ہے کہ وہ نیک بخت اور بدبخت میں فرق کر دیتا ہے۔کیا تجھے خبر ہے کہ بدبخت کی کیا علامت ہے وہ امام زماں کا دشمن ہوا کرتا ہے۔جو خدائے واحد کی طرف سے آتا ہے اُس لئیم کی نظر میں وہ مفتری لوگوں میں سے ہوتا ہے۔اگر وہ شقی اور زمین کا کیڑا نہ ہوتاتو ایسی گفتگو سے توبہ کرتا۔وہ یار جو عنایت مجھ پر کرتا ہے اے ُمردار کیا تو نے ویسی کسی اور پر بھی سنی ہے؟۔اگر تقویٰ تیرا شعار ہوتا تو غیب کی مشعل تیری رہنما ہوتی۔اتقا کی علامت صدق ہے اے سیہ دل انسان تجھے صدق سے کیا مطلب؟۔تو خدا کے رازوں کو نہیں پہچانتا۔تیری ساری بنیاد ظن اور وہم پر ہے۔تکبر اور انکا رکی وجہ سے جو کچھ ُتو کہتا ہے اس سے پہلے یہودیوں نے بھی یہی کہا ہے۔تیرا نفس موٹا ہے اور روح بیمار اور آسمان کے سب دروازے تجھ پر بند ہیں۔یہ کیا غفلت ہے کہ تو اس روش پر خوش ہے اور خدا تعالیٰ سے بالکل نہیں ڈرتا صفحہ ۴۸۰۔بہت سے راز ہیں جو اعلیٰ صداقتیں ہیں مگر اندھوں کے لئے وہ تعجب کا مقام ہیں۔رو رو کر رستہ ڈھونڈتا کہ خدا کا رحم جوش میں آئے۔اُس واقف حال خدا کے سامنے ایک رات خلوص کے ساتھ آہ وزاری کر