عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 712 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 712

۔میں نے شور برپا کر رکھا ہے تا کہ اس کی وجہ سے خلقت اپنی نیند سے بیدار ہو جائے۔اے غافلو۔میں محبوب کے پاس سے آیا ہوں اور بادِ بہار کی طرح آیا ہوں۔یہ میرا زمانہ گلزار کا زمانہ ہے یعنی لالہ زار کا موسم اور بہار کا وقت ہے۔میں اس لئے آیا ہوں تا کہ محبوب لوٹ آئے اور بددل لوگوں کو پھر آرام نصیب ہو۔ایک غیبی ہاتھ ہر دم میری پرورش کرتا ہے اور اُس کی وحی نے کامل طور سے مجھ پر ظہور کیا ہے۔الہام الٰہی کا نور بادصبا کی طرح غیب سے میرے پاس خوشبوئیں لا رہا ہے۔ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا اور ہر رسول میرے پیراہن میں پوشیدہ ہے۔میرے نور کی وجہ سے زمین وزماں روشن ہو گئے مگر ابھی تیرا سر عداوت سے آسمان پر ہے۔افسوس کہ تو خدا سے جنگ کر رہا ہے یہ کیا ظلم وجفا کر رہا ہے۔تجھ پر افسوس۔تو نے تقویٰ کی راہ کو چھوڑ دیا۔اے خدا سے بے تعلق شخص ہوش کر۔تو نے مخلوقات، ننگ وناموس اور رسوم کی خاطر اپنا منہ اُس قیوم کی بارگاہ سے پھیر رکھا ہے۔اپنا منہ اُس کی طرف کر کہ اُسی کا چہرہ تو اصل چہرہ ہے سارے چہرے اُس دلدار پر سے قربان ہیں۔جب تو ہم سے خدا کی وحی سنے تو یہ نہ کہو کہ وہ ہم کو کیوں نہ ملی۔جب تک تیرے دل کا کام تمام نہ ہو جائے کس طرح محبوب کا پیغام تیرے پاس پہنچے۔جب تک تو خود روی سے الگ نہ ہو اور جب تک تو دوست پر فدا نہ ہو۔جب تک تو اپنی نفسانیت سے باہر نہ آئے اور جب تک اس کے چہرہ کا دیوانہ نہ بن جائے۔جب تک تیری خاک غبار کی طرح نہ ہو جائے اور جب تک تیرے غبار میں سے خون نہ ٹپکے۔جب تک تیرا خون کسی کی خاطر نہ بہے اور جب تک تیری جان کسی پر قربان نہ ہو جائے۔تب تک تجھے کوئے جاناں کا راستہ کیوں کر ملے اور اُس درگاہ کی طرف سے تجھے آواز کیونکر آئے صفحہ ۴۷۹۔تو تو روپے پیسے کا لالچی ہے اور دن رات اسی مردار پر کتوں کی طرح گرا ہوا ہے۔اس قدر لالچ حرص تکبر اور غرور کے ساتھ کیا وجہ ہے کہ تو کوئے جاناں سے دور نہ رہے