عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 701 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 701

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۷ عصمت انبياء عليهم السلام خدا تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہے ڈیڑھ سو کے قریب نشان ظاہر ہوا ہے میں خدا تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس قسم کے مردے کہ جو سنت اللہ کے رو سے زندہ ہوتے رہے ہیں وہ مجھ سے بھی زندہ ہوئے اسی طرح میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ دس ہزار سے زیادہ میری دعائیں قبول ہوئی ہیں اور جس قسم کے الفاظ انجیلوں میں یسوع مسیح کی نسبت ہیں جن سے ان کی خدائی نکالی جاتی ہے ان سے بہت بڑھ کر خدا تعالیٰ کا کلام میری نسبت ہے اور ایسے کلمات میں نے کتابوں کے ذریعہ سے شائع بھی کر دئے ہیں خدا نے میرا نام آدم رکھا ہے۔ خدا نے میرا نام ابراہیم رکھا ہے۔ خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا ہے اور خبر دی ہے کہ وہ موعود جس کے انتظار میں تمام نبی گزر گئے ہیں وہ تو ہی ہے مگر باوجود اس کے میں یہ نہیں کہتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں حالانکہ میری نسبت خدا کے کلام میں ایسے الفاظ بکثرت موجود ہیں جن کے ذریعہ سے مسیح ابن مریم کی نسبت بآسانی خدا کہلا سکتا ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ یہ کفر ہے اسی لئے میں تمام دنیا سے زیادہ حیران ہوں کہ کونسی کوئی خاص فضیلت مسیح ابن مریم میں تھی جس کی وجہ سے اس کو خدا بنا یا گیا کیا اس کے کوئی خاص معجزات تھے مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر یہاں معجزات ظاہر ہورہے ہیں۔ کیا اس کی پیشگوئیاں اعلیٰ قسم کی تھیں مگر میں خلاف واقعہ کہوں گا اگر یہ اقرار نہ کروں کہ جو پیشگوئیاں مجھے عطا کی گئی ہیں وہ مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہیں کیا میں یہ کہ سکتا ہوں کہ انجیلوں میں مسیح ابن مریم کی شان میں بڑے اعلیٰ درجہ کے لفظ ہیں جن سے ان کو خدا مانا پڑتا ہے مگر میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا دنیا اور آخرت میں موجب لعنت ہے کہ وہ الفاظ جو خدا تعالی کی طرف سے میری شان میں وارد ہوئے ہیں جن کی نسبت میں پھر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ خالص خدا کے الفاظ ہیں نہ انجیلوں کی طرح محترف ۔ مبدل ۔ مُغیر ۔ وہ ان الفاظ کی شان سے کہیں بڑھ کر ہیں جو مسیح ابن مریم کی نسبت پادری صاحبان انجیلوں میں دکھلاتے ہیں مگر کیا مجھے جائز ہے کہ