عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 699 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 699

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۵ عصمت انبياء عليهم السلام افعال ہیں۔ پھر جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی خدا کے اقوال ہوئے اور افعال بھی خدا کے افعال ہوئے تو اب بتلاؤ کہ بجز اس کے کیا نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم ذات حضرت باری ہیں مگر باوجود اس کے عقلمند مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالی قرار نہیں دیتے اور عیسائیوں کی طرح آنجناب کو الوہیت کا کوئی اقنوم نہیں ٹھہراتے حالانکہ اس جگہ عملی طور پر بھی ثبوت ہے اور وہ کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ اپنی ذات کے لئے غیرت رکھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ آنجناب کے لئے غیرت دکھلاتا ہے اور جن لوگوں نے آنجناب کو دکھ دئے تھے اور ناحق کے خون کئے تھے اور آپ کو وطن سے نکالا تھا خدا تعالیٰ نے آنجناب کو وفات نہیں دی جب تک کہ ان لوگوں کو عذاب کا مزا نہ چکھالیا۔ اور جن لوگوں نے ساتھ دیا تھا ان کو تختوں پر بٹھا دیا۔ اب جب ہم آنجناب کے ان حالات کا یسوع مسیح کے حالات سے مقابلہ کرتے ہیں تو مجبوراً ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عملی طور پر یسوع مسیح کے لئے کوئی اپنی تائید ظاہر نہ کی بلکہ الٹا یہودیوں کی تائید کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا اور بڑی بڑی ذلتیں پہنچا ئیں ۔ خسرو پرویز نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے جب ارادہ کیا تو ایک ہی رات میں خود قتل کیا گیا۔ لیکن جب یہودیوں کی جھوٹی مخبری سے یسوع مسیح کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا تو صرف ایک دوسپاہیوں نے تین گھنٹہ کے اندر یسوع مسیح کو گرفتار کر کے حوالات میں داخل کر دیا اب کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ کوئی الہی جلال بھی تھا جو باوجود تمام رات کی دعاؤں کے گرفتار ہونے سے بچ نہ سکا اور پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادہ پر جس قدر لوگ حملہ کی نیت پر آپ کے گھر جمع ہوئے تھے اور گھر کا محاصرہ کر لیا تھا وہ با وجود سخت در سخت کوششوں کے نامرادر ہے اور بغیر اس کے جو آنجناب یسوع مسیح کی طرح تمام رات دعائیں کرتے عنایت ایزدی سے بچائے گئے اور