عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 698 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 698

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۴ عصمت انبياء عليهم السلام رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ توریت سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنا نور اس کے اندر رکھا اور اپنی روح اس میں پھونکی اور یہی خبر قرآن شریف سے بھی ملتی ہے پس یہ امر انسانی استعداد اور فطرت سے کچھ بڑھ کر نہیں ہے کہ خدا اپنے بندہ کے صافی دل میں اس طور سے نزول جلالی فرمادے کہ اس کی عظمت کا خیمہ اُس کے دل میں قائم ہو جائے اور بندہ کو خدا سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے جیسا کہ مثلاً جب لوہے کو ایک نہایت تیز اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے تو وہ بظاہر آگ کی صورت پر ہی نظر آ جاتا ہے مگر تا ہم در حقیقت وہ لوہا ہے نہ آگ۔ پس در حقیقت یہی تعلق خدا کے کامل محنتوں کو خدا سے ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اندر محسوس کرنے لگتے ہیں کہ خدا ان میں اترا ہے اور بسا اوقات اس عالم اتحاد میں بعض لوگوں کی زبان پر شطحیات بھی جاری ہو جاتی ہیں یعنی وہ لوگ اُس الہی تعلق کو (۲۰۵) ایسے رنگ سے بیان کرتے ہیں کہ عام آدمی اس دھو کے میں پڑتے ہیں کہ گویا وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے قریباً اس قسم کے کلمات تمام الہی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال قرآن شریف میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل کو اسی بنا پر خدا کا قول اور فعل ٹھہرایا گیا ہے مثلاً قول کی نسبت یہ آیت ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وحي يوحى ا یعنی اس نبی کا قول بشری ہوا و ہوس کے چشمہ سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا قول خدا کا قول ہے اب دیکھو کہ اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل اقوال خدا تعالیٰ کے اقوال ثابت ہوتے ہیں پھر اس کے مقابل پر ایک دوسری آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے افعال بھی خدا تعالیٰ کے افعال ہیں جیسا کہ فرمایا ہے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلی ہے یعنی جو کچھ تو نے چلایا یہ تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی خدا کے النجم : ۵،۴ الانفال: ۱۸