عصمتِ انبیاءؑ — Page 697
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۳ عصمت انبياء عليهم السلام خدا ایک ہے اور غائب ہے۔ یہودیوں کا یہ بھی عذر ہے کہ جب موسیٰ نے کوہ سینا پر خدا تعالیٰ سے درخواست کی کہ اپنا چہرہ دکھلا تو خدا نے اس وقت کیوں کہا کہ میرا چہرہ کوئی دیکھ نہیں سکتا چاہئے تھا کہ خدا اس وقت یسوع کی شکل دکھلا دیتا کہ میرا چہرہ یہ ہے۔ غرض یہود نے یہ ثابت (۲۰۴) کرنا چاہا ہے کہ عیسائی مذہب ایک ایسا مذہب ہے کہ توریت کے پرانے وثیقہ کو جس پر تمام نبیوں کی مہریں ہیں چاک کرنا چاہتا ہے اور توریت کا بنیادی پتھر جو تو حید ہے اس کے استیصال کے درپے ہے۔ الحاصل عیسائیوں نے ایسے خدا کو پیش کر کے کہ جس کی تعلیم خدا کی بابت ہرگز ہرگز توریت کی تعلیم کے مطابق نہیں اور نہ قرآن کے مطابق ہے ایک مکر وہ بدعت کو دنیا میں پھیلانا چاہا ہے ان کو اس بات کی کچھ بھی پروا نہیں کہ ایسے نئے عقیدہ نے اگر توریت اور دوسرے نبیوں کے صحیفوں کی مخالفت کی ہے تو بارے وہ عقل کے ذریعہ سے ہی ثابت کیا جاتا بلکہ ان کو عقل کی راہ سے بھی عجیب لا پرواہی ہے گویا ان کے نزدیک عقلی استدلال کی مذہب پر کوئی حکمرانی نہیں بلکہ ان کے نزدیک عقل کو یہ حق حاصل نہیں کہ توحید اور تثلیث کے بارے میں اپنی کوئی شہادت دے سکے وہ دوسروں کی خوردہ گیری اور نکتہ چینی کے بہت عادی ہیں مگر تعجب کہ اپنے عقیدہ کی نسبت بھول کر بھی ایک غور کی نظر نہیں کرتے ۔ ان کا اصلی کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ حضرت مسیح کی خدائی کو جس کے تو رات ۔ قرآن عقل متینوں مکذب ہیں اول ثابت کر لیتے اور پھر کفارہ اور نجات وغیرہ خود تراشیدہ باتوں پر زور دیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اپنے عقیدہ کی اصل بنیاد کو نظر انداز کر کے بیہودہ باتوں میں پڑ گئے لیکن اس کے ساتھ میں یہ بیان کرنا بھی چاہتا ہوں کہ اس غلطی کی تہ میں ایک سچائی بھی مخفی ہے اور گو بیہودہ تو ہمات کے حاشیہ سے اُس سچائی کا ایسا منہ کالا کر دیا گیا ہے کہ اب بجائے خوبصورتی کے ایک نہایت بد اور ڈراؤنی شکل نظر آتی ہے تاہم پھر بھی اس سیاہ بادل کے اندر ایک واقعی سچائی کی برقی روشنی ہے جو نہایت دھیمے طور پر اس کی مہلک تعلیم مسیح کو خدا بنانے میں بھی محسوس ہو