عصمتِ انبیاءؑ — Page 693
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۹ عصمت انبياء عليهم السلام ہر یک زمانہ میں نبیوں کی معرفت اور خود بخود بھی اپنے تئیں شناخت کراتا رہا ہے اور وہ بھی اس سے ناشناسا نہیں رہے جن کو آسمانی کتابیں نہیں پہنچیں تو ہم اس کے قبول کرنے کے لئے طیار ہیں۔ پس کیا زمین کے پردہ پر کوئی ایسے صاحب ہیں جو مسیح کا کوئی امتیازی نشان ہمیں دکھلاویں یعنی ہم اس کی آواز سن سکیں اور اس کی خدائی کے نشانوں کو ہم دیکھ سکیں کیونکہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اگر اس بچے خدا پر بھی محض شکی ایمان ہو جو واقعی خدا ہے تب بھی ایسا ایمان گناہوں سے مُنجی نہیں ہو سکتا پھر ایسا مصنوعی خدا جو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا رہا اس پر اگر محض مشکی طور پر خدائی کا خیال جمایا جائے تو ایسا خیال کس مرض سے نجات دے گا۔ یہ یقینی امر ہے کہ وہ خدا جو در حقیقت خدا ہے اُس پر ایمان لانا بھی اسی حالت میں گناہ سے چھوڑ سکتا ہے جبکہ وہ ایمان یقین کے درجہ پر پہنچ گیا ہو تو پھر کسی انسان کو خدا بنانا اور اس کی خدائی پر یقینی دلائل پیش نہ کرنا کس قدر جائے شرم ہے اور در حقیقت ایسے لوگ راستی کے دشمن ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان لوگوں کو اس قابل شرم کا رروائی کے لئے کونسی ضرورت پیش آئی تھی اور ازلی ابدی خدا کے ماننے میں کون سے نقصان محسوس ہوئے تھے جن کا تدارک اس مصنوعی خدا سے کیا گیا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ سچا خدا جو آدم پر ظاہر ہوا اور پھر شیث پر اور پھر نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور تمام نبیوں پر یہاں تک کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ ہمیشہ زندہ اور حتی قیوم ہے اور جیسا کہ وہ پہلے زمانوں میں نبیوں کی معرفت انا الموجود کہتا تھا اب بھی اسی طرح کہتا ہے اور جیسا کہ پہلے نبیوں نے اس کی باشوکت آوازیں سنیں اور اس کے نشان دیکھے ویسا ہی ہم بھی آواز میں سنتے اور نشان دیکھتے ہیں اور جیسا کہ پہلے زمانوں میں وہ اپنے لوگوں کی دعائیں سنتا اور جواب دیتا تھا ایسا ہی اب بھی وہ ہماری دعائیں سنتا اور جواب دیتا ہے۔ اور جیسا کہ پہلے راستباز اس سے محبت کرنے اور اس کا چہرہ دیکھنے سے کچی پاکیزگی حاصل کرتے تھے ویسا ہی ہم بھی حاصل کر رہے