عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 692 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 692

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۸ عصمت انبياء عليهم السلام بھی ثابت کر دیا کہ مسیح نے بھی کوئی معجزہ نہیں دکھلایا کیونکہ اگر مسیح نے کوئی معجزہ دکھلایا تھا تو ضروری تھا کہ مسیح کے پیرو بھی معجزات دکھلانے پر قادر ہوتے (۳) تیسری اگر فرض محال کے طور پر ہم قبول بھی کر لیں کہ مسیح سے معجزات ظاہر ہوئے تھے اور ان عبارات کی کچھ پروا نہ کریں جہاں انجیلوں میں لکھا ہے کہ اس زمانہ کے حرام کار نشان مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا تاہم ایسے معجزات سے جو پہلے نبیوں کے معجزات سے کچھ زیادہ نہیں ہیں بلکہ کم ہیں مسیح کی خدائی ثابت نہیں ہو سکتی ۔ پس جب کہ مسیح کی خدائی ایسی ہے کہ ایک سلیم العقل آدمی کو کسی طرح اس پر یقین نہیں آ سکتا تو ایسی خدائی کیونکر گناہ سے روک سکتی ہے۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ وہ امر جو اول درجہ پر گناہ سے روکتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین ہے یعنی یہ یقین کہ در حقیقت ایک خدا ہے جو گناہ کی سزا دیتا ہے مگر مسیح کی نسبت ایسا یقین کیونکر پیدا ہو بھلا کوئی ہمیں یہ تو بتلا دے کہ اُس میں اور ان لوگوں میں جو مر چکے ہیں مابہ الامتیاز کیا ہے۔ ہم اور ہر یک عقلمند خوب جانتا ہے کہ خدا میں اور مخلوق میں ایک ما بہ الامتیاز ضرور چاہئے لیکن اس جگہ اس ما بہ الامتیاز کا تو ذکر کیا یہاں تو اس قدر بھی ما بہ الامتیاز ثابت نہیں جو ایک مردہ انسان اور زندہ انسان میں ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ حضرات عیسائی صاحبان تو مسیح کی خدائی کے لئے شور و فریاد کر رہے ہیں لیکن ہم تو اسی قدر پر راضی ہو سکتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح کو ایک زندہ انسان کے مرتبہ پر ثابت کر کے دکھلاویں۔ ہمیں کسی مذہب سے بغض نہیں اگر ابن مریم خدا ہے تو ہم سب سے پہلے اسے قبول کرنے کو طیار ہیں اگر در حقیقت وہی شفیع ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ اول المومنین ہم ہی ہوں لیکن محض باطل اور سرا سر غو اور جھوٹ کو ہم کیونکر قبول کر لیں ۔ اگر خدا ایسا ہی کمزور اور عاجز ہونا چاہئے جیسا کہ یسوع ابن (۲۰۱) مریم ہے تو پھر ایسے خدا کے ماننے کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور نہ کسی طرح اس پر یقین آ سکتا ہے لیکن اگر یسوع مسیح ایسا خدا ہے کہ ہم اسی طرز سے اس کو شناخت کر سکتے ہیں جس طرح خدا تعالی