عصمتِ انبیاءؑ — Page 691
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۷ عصمت انبياء عليهم السلام پہاڑ کو کہیں کہ ایک جگہ سے اٹھ جائے تو وہ فی الفور اٹھ جائے گا اور سانپوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑیں گے اور وہ نہیں کائیں گے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر یورپ کے عیسائی خود کشی سے مرتے ہیں فی الفور زہران میں اثر کر جاتی ہے اور پہاڑ کا تو کیا ذکر اگر ایک الٹا پڑا ہوا جوتا ہو تو فقط حکم سے اس کو سیدھا نہیں کر سکتے جب تک ہاتھ ہلا کر سیدھا نہ کریں اور سانپ وغیرہ زہر یلے جانوروں سے ہمیشہ مرتے رہتے ہیں۔ اب اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ ان آیات کے حقیقی معنے مراد نہیں لینے چاہئیں بلکہ اس جگہ مجازی معنے مراد ہیں مثلاً زہر سے یہ مراد ہے کہ وہ غصہ کھا لیتے ہیں اور سانپوں سے یہ مراد کہ شریران کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو قبل اس کے کہ ہم ان تاویلوں میں بھی گفتگو کریں ہم حق رکھتے ہیں کہ اس وقت یہ سوال پیش کر دیں کہ جبکہ یہ تمام دعوے جو نشانوں کے لئے دئے گئے اور بار بار حضرت مسیح نے فرمایا کہ جو کچھ میں نشان دکھاتا ہوں میرے پیرو بھی وہی نشان دکھائیں گے صرف استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں اور ان سے نشان مراد نہیں ہیں تو اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جو کچھ حضرت مسیح کی طرف معجزات منسوب کئے جاتے ہیں وہ بھی استعارہ کے رنگ میں ہیں کیونکہ حضرت مسیح بار بار ۲۰۰ انجیلوں میں فرما چکے ہیں کہ جو کچھ میں معجزات دکھاتا ہوں وہی معجزات میرے بچے پیرو بھی دکھاتے رہیں گے اب چونکہ ایسے معجزات کے مطالبہ کے وقت یہ جواب ملتا ہے کہ ان مقامات سے مراد معجزات نہیں ہیں بلکہ محض مسیحی لوگوں کی اخلاقی حالتیں مرد ہیں تو کیوں نہ کہا جائے کہ حضرت مسیح کے معجزات سے بھی ایسے ہی امور مراد ہیں نہ در حقیقت معجزات ۔ غرض عیسائیوں کے لئے یہ سوال ایک سخت مصیبت کی جگہ ہے جس کا کوئی بھی جواب ان کے پاس نہیں۔ اب اگر اس مقام میں ذرہ زیادہ سوچا جائے تو در حقیقت یہ ایک مصیبت نہیں بلکہ تین مصیبتیں ہیں (۱) ایک تو یہ کہ مسیح کا فرمانا کہ جو کچھ میں معجزات دکھلاتا ہوں وہی معجزات بلکہ ان سے بڑھ کر میرے پیرو بھی دکھا ئیں گے یہ بات صریح جھوٹی نکلی (۲) دوسری اس جھوٹ نے یہ