عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 681 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 681

روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام اور جنت کے اعلیٰ مقام ان کو ملیں گے اور خدا کی رحمت کی گود میں وہ بٹھائے جائیں گے اور نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ ایسے وعدے ان کو دئے جاتے ہیں اور ان کو بہشت دکھایا جاتا ہے پھر اگر وہ ان معنوں کے رو سے استغفار کریں کہ وہ اپنے گناہوں کے سبب سے دوزخ میں نہ پڑیں تو ایسا استغفار تو خود ان کے لئے ایک گناہ ہوگا کہ وہ خدا کے وعدوں پر یقین نہیں کرتے اور خدا کی رحمت سے اپنے تئیں دور سمجھتے ہیں پھر ایسا شخص جس کے حق میں خدا تعالیٰ یہ فرمادے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ے یعنی تمام دنیا کے لئے تجھے ہم نے رحمت کر کے بھیجا ہے اور تو رحمت مجسم ہے۔ وہ اگر اپنی نسبت ہی یہ شک کرے کہ خدا کی رحمت میرے شامل ہوگی یا نہیں تو پھر دوسروں کے لئے کیونکر رحمت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام قرینے ان لوگوں کے لئے جو انصاف سے سوچتے ہیں صریح اس حقیقت کو کھولتے ہیں جو استغفار کے دوسرے معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا سخت خطا کاری اور شرارت ہے بلکہ معصوم کے لئے اول علامت یہی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے اور ہر آن اور ہر حالت میں بشریت کی کمزوری سے محفوظ رہنے کے لئے خدا تعالیٰ سے طاقت طلب کرتا رہے جس کو دوسرے لفظوں میں استغفار کہتے ہیں کیونکہ اگر ایک بچہ ہر وقت ماں کے ہاتھ کے سہارے سے چلتا ہے اور روا نہیں رکھتا کہ ایک سیکنڈ بھی ماں سے دور ہو وہ بچہ بلاشبہ ٹھوکر سے بچ رہے گا لیکن وہ بچہ جو ماں سے علیحدہ ہو کر چلتا ہے اور خود بخود کبھی کسی خوفناک زینہ پر چڑھتا ہے اور کبھی کسی خوفناک زینہ سے اترتا ہے وہ ضرور ایک دن گرے گا اور اس کا گرنا سخت ہو گا۔ پس جس طرح خوش قسمت بچہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی پیاری ماں سے ہرگز علیحدگی اختیار نہ کرے اور ہر گز اس کی گود سے جدا نہ ہو اور اس کے دامن کو نہ چھوڑے یہی عادت ان مبارک مقدسوں کی ہوتی ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر ایسے جاپڑتے ہیں جیسا کہ ماں کی گود میں بچے اور جیسا کہ ایک بچہ اپنا ا الانبياء : ١٠٨