عصمتِ انبیاءؑ — Page 678
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۷۴ عصمت انبياء عليهم السلام طاقت کھینچتا ہے لہذا انسانوں میں سے وہی معصوم کامل ہے جو استغفار سے الہی طاقت کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کشش کے لئے تضرع اور خشوع کا ہر دم سلسلہ جاری رکھتا ہے تا اس پر روشنی اترتی رہے اور ایسے دل کو اس گھر سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کے شرق اور غرب سے اور ہر یک طرف سے تمام دروازے آفتاب کے سامنے ہیں پس ہر وقت آفتاب کی روشنی اس میں پڑتی ہے لیکن جو شخص خدا سے طاقت نہیں مانگتا وہ اس کو ٹھڑی کی مانند ہے جس کے چاروں طرف سے دروازے بند ہیں اور جس میں ایک ذرہ روشنی نہیں پڑ سکتی۔ پس استغفار کیا چیز ہے یہ اس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اترتی ہے تمام را ز تو حید اسی اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائیداد قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کے حصول کے لئے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے۔ ذات باری تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دل سے مشابہت ہے جس میں مصفی خون کا ذخیرہ جمع رہتا ہے اور انسان کامل کا استغفار ان شرائین اور عروق کی مانند ہے جو دل کے ساتھ پیوستہ ہیں اور خون صافی اس میں سے بھینچتی ہیں اور تمام اعضا پر تقسیم کرتی ہیں جو خون کے محتاج ہیں۔ ذنب اور جرم میں فرق یہ کہنا بالکل غلطی ہے کہ آیت وَاسْتَغْفِرُ لِذَنبك امیں ذنب کا لفظ موجود ہے جو گناہ کو کہتے ہیں کیونکہ ذنب اور جرم میں فرق ہے جرم کا لفظ تو ہمیشہ ایسے گناہ کے لئے آتا ہے جو سزا کے لائق ہوتا ہے مگر ذنب کا لفظ بشریت کی کمزوری کے لئے بھی آجاتا ہے اسی لئے نبیوں پر انسانی کمزوری کی وجہ سے ذنب کا لفظ اطلاق پایا ہے مگر جرم کا لفظ اطلاق نہیں پایا اور خدا کی کتاب میں کسی نبی کو مجرم کے لفظ سے نہیں پکارا گیا اور نیز خدا کی کتاب میں یعنی قرآن شریف میں مجرم کے لئے تو جہنم کی وعید ہے یعنی خدا کی طرف سے عہد ہے کہ وہ جہنم میں ا محمد : ۲۰