عصمتِ انبیاءؑ — Page 669
روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام جب اس مرتبہ تو حید پر انسان کی پرستش پہنچ جائے تب اس وقت وہ حقیقی طور پر خدا کا پرستار کہلا سکتا ہے اور ایسا انسان جیسا کہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے ایسا ہی وہ اپنے فعل سے یعنی اپنی عبادت سے بھی خدا کی توحید پر گواہی دیتا ہے پس اسی مرتبہ کاملہ کی طرف اشارہ ہے جو آیت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ تو لوگوں کو کہہ دے کہ میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہیں یعنی نفس کو اور مخلوق کو اور اسباب کو میری عبادت میں سے کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ میری قربانی بھی خاص خدا کے لئے ہے اور میرا جینا بھی خدا کے لئے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے ۔ یادر ہے کہ نَسِنگ لغت عرب میں قربانی کو کہتے ہیں اور لفظ نُسک جو آیت میں موجود ہے اُس کی جمع ہے اور نیز دوسرے معنی اس کے عبادت کے بھی ہیں پس اس جگہ ایسا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنے عبادت اور قربانی دونوں پر اطلاق پاتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل عبادت جس میں نفس اور مخلوق اور اسباب شریک نہیں ہیں در حقیقت ایک قربانی ہے اور کامل قربانی در حقیقت کامل عبادت ہے اور پھر بعد اس کے جو فرمایا کہ میرا جینا بھی خدا کے لئے ہے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے یہ آخری فقرہ قربانی کے لفظ کی تشریح ہے تا کوئی اس وہم میں نہ پڑے کہ قربانی سے مراد بکرے کی قربانی یا گائے کی قربانی یا اونٹ کی قربانی ہے اور تا اس لفظ سے کہ میرا جینا اور میرا مرنا خاص خدا کے لئے ہے صاف طور پر سمجھا جائے کہ اس قربانی سے مراد روح کی قربانی ہے اور قربانی کا لفظ قرب سے لیا گیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا قرب تب حاصل ہوتا ہے کہ جب تمام نفسانی قومی اور نفسانی جنبشوں پر موت آ جائے غرض یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب تام پر ایک بڑی دلیل ہے اور یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے