عصمتِ انبیاءؑ — Page 667
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۳ عصمت انبياء عليهم السلام ہے کہ وہ خدا کی محبت تامہ کی وجہ سے اس فیض کو کھینچے اور پھر خلوق کی محبت تامہ کی وجہ سے وہ فیض ان تک پہنچا وے اور یہی وہ کیفیت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔ شخص شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اس کے دل میں اترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیت مرکز بال بال میں لا ہوتی تجلی پیدا ہوگئی ہو اور اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہ نکلی ہو اور اس طرح پر الہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔ اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اس کی ہمدردی میں اس کا دل اڑا جا تا ہوا ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہو گی اور گویا شدت قلق سے اس کے اعضا اس سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حواس منتشر ہیں اور اس کی ہمدردی نے اس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غمخوار سے بڑھ کر ہے پس جبکہ یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک طرف سے لاہوت کے مقام سے جفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جفت تب دونوں پلہ میزان (۱۸۲) اس میں مساوی ہوں گے۔ یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہوگا اور مظہر ناسوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں حالتوں میں واقع ہوگا ۔ اس طرح پر لاهوت ناسوت اسی مقام شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما نقطه بروز مقام شفع کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کی شان میں فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لا ہوتی مقام سے پورا حصہ لیا اور پھر ناسوت کی طرف کامل رجوع کیا یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو نا سوتی کمال النجم : ١٠٩