عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 660 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 660

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۵۶ عصمت انبياء عليهم السلام لئے بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتا کہ وہ خود بخود نفسانی ظلمات سے باہر آ سکتا ہے۔ یہ تو انسانی کانشنس کی شہادت ہے اور ماسوا اس کے اگر غور اور فکر سے کام لیا جائے تو عقل سلیم بھی اسی کو چاہتی ہے کہ نجات کے لئے شفیع کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ تقدس اور تطہر کے مرتبہ پر ہے اور انسان نہایت درجہ ظلمت اور معصیت اور آلودگی کے گڑھے میں ہے اور بوجہ فقدان مناسبت اور مشابہت عام طبقہ انسانی گروہ کا اس لائق نہیں کہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض پا کر مرتبہ نجات کا حاصل کر لیں پس اس لئے حکمت اور رحمت الہی نے یہ تقاضا فرمایا کہ نوع انسان اور اس میں بعض افراد کاملہ جو اپنی فطرت میں ایک خاص فضیلت رکھتے ہوں درمیانی واسطہ ہوں اور وہ اس قسم کے انسان ہوں جن کی فطرت نے کچھ حصہ صفات لا ہوتی سے لیا ہو اور کچھ حصہ صفات : ناسوتی سے تا باعث لاهوتی مناسبت کے خدا سے فیض حاصل کریں۔ اور بباعث ناسوتی مناسبت کے اس فیض کو جو اوپر سے لیا ہے نیچے کو یعنی بنی نوع کو پہنچاویں اور یہ کہنا واقعی صحیح ہے کہ اس قسم کے انسان بوجه زیادت کمال لا ھوتی اور ناسوتی کے دوسرے انسانوں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں گویا یہ ایک مخلوق ہی الگ ہے کیونکہ جس قدر ان لوگوں کو خدا کے جلال اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے جوش دیا جاتا ہے اور جس قدر ان کے دلوں میں وفاداری کا مادہ بھرا جاتا ہے اور پھر جس قدر بنی نوع کی ہمدردی کا جوش ان کو عطا کیا جاتا ہے وہ ایک ایسا امرفوق العادت ہے جو دوسرے کے لئے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ہاں یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ تمام اشخاص ایک مرتبہ پر نہیں ہوتے بلکہ ان فطرتی فضائل میں کوئی اعلیٰ درجہ پر ہے کوئی اس سے کم اور کوئی اس سے کم ۔ اور ایک سلیم العقل کا پاک کا نشنس سمجھ سکتا ہے کہ شفاعت کا مسئلہ کوئی بناوٹی اور مصنوعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ انتظام میں ابتدا سے اس کی نظریں موجود ہیں اور قانون قدرت میں اس کی شہادتیں صریح طور پر ملتی ہیں۔