اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 455

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۹ اسلامی اصول کی فلاسفی کے ساتھ اور تبلیغ کے ساتھ اور ان کے جور و جفا اٹھانے کے ساتھ اور ہر ایک مناسب اور حکیمانہ طریق کے ساتھ اپنی جان اور اپنے آرام کو اس راہ میں فدا کر دیا تھا جیسا کہ اللہ جلّ شانہ فرماتا ہے۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ ۔ کیا تو اس غم اور اس سخت محنت میں جولوگوں کے لئے اٹھا رہا ہے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا ؟ اور کیا ان لوگوں کے لئے جو حق کو قبول نہیں کرتے تو حسرتیں کھا کھا کر اپنی جان (۸۸) دے گا ؟ سو قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانون قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اٹھاویں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کو سخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطرناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مارلیس یا دو تین رتی اسٹرکنیا * کھا کر اس جہان سے رخصت ہو جائیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجا سے قوم کو نجات دے دی ہے ۔ یہ مردوں کا کام نہیں ہے ۔ زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خود کشی کی طرف دوڑتے ہیں۔ ایسی خود کشی کی گو بعد میں کتنی ہی تاویلیں کی جائیں مگر یہ حرکت بلاشبہ عقل اور عقلمندوں کا ٹنگ ہے ۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا صبر اور دشمن کا مقابلہ نہ کرنا معتبر نہیں ہے ۔ جس کو انتقام کا موقعہ ہی نہ ملا کیونکہ کیا معلوم ہے کہ اگر وہ انتقام پر قدرت پاتا تو کیا کچھ کرتا۔ جب تک انسان پر وہ زمانہ نہ آوے جو ایک مصیبتوں کا زمانہ اور ایک مقدرت اور حکومت اور ثروت کا زمانہ ہو۔ اس وقت تک اس کے سچے اخلاق ہرگز ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جو شخص صرف کمزوری اور ناداری اور بے اقتداری کی حالت میں لوگوں کی ماریں کھا تا مرجاوے اور اقتدار اور حکومت اور ثروت الشعراء: ۴ فاطر: ۹ لم Strychnia کچله (ناشر)