اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 452

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۶ اسلامی اصول کی فلاسفی پڑے گی کہ آٹے کو اس کے مناسب قوام پر رکھ سکیں بلکہ یا تو پھر سارہے گا اور یا پتلا ہوکر گلگلوں کے لائق ہو جائے گا اور اگر مر مر کر اور تھک تھک کر گوندھ بھی لیا تو روٹی کا یہ حال ہوگا کہ کچھ جلے گی اور کچھ کچی رہے گی۔ بیچ میں ٹکیہ رہے گی اور کئی طرف سے کان نکلے ہوئے ہوں گے حالانکہ پچاس برس تک ہم پکتی ہوئی دیکھتے رہے۔ غرض مجرد علم کی شامت سے جو عملی مشق کے نیچے نہیں آیا، کئی سیر آٹے کا نقصان کریں گے۔ پھر جبکہ ادنی ادنی سی بات میں ہمارے علم کا یہ حال ہے تو بڑے بڑے امور میں بجز عملی مزاولت اور مشق کے صرف علم پر کیونکر بھروسہ رکھیں ۔ سوخدا تعالیٰ ان آیتوں میں یہ سکھاتا ہے کہ جو مصیبتیں میں تم پر ڈالتا ہوں وہ بھی علم اور تجربہ کا ذریعہ ہیں یعنی ان سے تمہارا علم کامل ہوتا ہے۔ اور پھر آگے فرماتا ہے کہ تم اپنے مالوں اور جانوں میں بھی آزمائے جاؤ گے۔ لوگ تمہارے مال لوٹیں گے تمہیں قتل کریں گے اور تم یہودیوں اور عیسائیوں اور مشرکوں کے ہاتھ سے بہت ہی ستائے جاؤ گے۔ وہ بہت کچھ ایڈا کی باتیں تمہارے حق میں کہیں گے۔ پس اگر تم صبر کرو گے اور بیجا باتوں سے بچو گے تو یہ ہمت اور بہادری کا کام ہوگا۔ ان تمام آیات کا مطلب یہ ہے کہ بابرکت علم وہی ہوتا ہے جو عمل کے مرتبہ میں اپنی چمک دکھاوے اور منحوس علم وہ ہے جو صرف علم کی حد تک رہے بھی عمل تک نوبت نہ پہنچے ۔ جاننا چاہئے کہ جس طرح مال تجارت سے بڑھتا ہے اور پھولتا ہے۔ ایسا ہی علم عملی مزاولت سے اپنے روحانی کمال کو پہنچتا ہے۔ سو علم کو کمال تک پہنچانے کا بڑا ذریعہ عملی مزاولت ہے۔ مزاولت سے علم میں نور آ جاتا ہے اور یہ بھی سمجھو کہ علم کا حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچنا اور کیا ہوتا ہے۔ یہی تو ہے کہ عملی طور پر ہر ایک گوشہ اس کا آزمایا جائے۔ چنانچہ اسلام میں ایسا ہی ہوا ۔ جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو سکھایا ان کو یہ موقع دیا کہ عملی طور پر اس تعلیم کو چمکاویں اور اس کے نور سے پر ہو جاویں۔