اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 451
روحانی خزائن جلدها ۴۴۵ اسلامی اصول کی فلاسفی إذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔ أُولَيْكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ، لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذُلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ یعنی ہم تمہیں خوف اور فاقہ اور مال کے نقصان اور جان کے نقصان اور کوشش ضائع جانے اور اولاد کے فوت ہو جانے سے آزمائیں گے یعنی یہ تمام تکلیفیں قضا قدر کے طور پر یادشمن کے ہاتھ سے تمہیں پہنچیں گی ۔ سو ان لوگوں کو خوشخبری ہو جو مصیبت کے وقت صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور خدا کی طرف رجوع کریں گے۔ ان لوگوں پر خدا کا دروداور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے کمال تک پہنچ گئے ہیں یعنی محض اس علم میں کچھ شرف اور بزرگی نہیں جو صرف دماغ اور دل میں بھرا ہوا ہو بلکہ حقیقت میں علم وہ ہے کہ دماغ سے اتر کر تمام اعضاء اس سے متاذب اور رنگین ہو جائیں اور حافظہ کی یادداشتیں عملی رنگ میں دکھائی دیں۔ سو علم کے مستحکم کرنے اور اس کے ترقی دینے کا یہ بڑا ذریعہ ہے کہ عملی طور پر اس کے نقوش اپنے اعضاء میں جمالیں۔ کوئی ادنی علم بھی عملی مزاولت کے بغیر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا۔ مثلاً مدت دراز سے ہمارے علم میں یہ بات ہے کہ روٹی پکانا نہایت ہی سہل بات ہے اور اس میں کوئی زیادہ بار یکی نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ آٹا گوندھ کر اور بقدر ایک ایک روٹی کے اس آٹے کے پیڑے بناویں اور ان کو دونوں ہاتھوں کے باہم ملانے سے چوڑے کر کے توے پر ڈال دیں اور ادھر ادھر پھیر کر اور آگ پر سینک کر رکھ لیں، روٹی پک جائے گی ۔ یہ تو ہماری صرف علمی لاف و گزاف ہے جب ہم نا تجربہ کاری کی حالت میں پکانے لگیں گے تو اوّل ہم پر یہی مصیبت البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸ آل عمران: ۱۸۷