اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 445
روحانی خزائن جلدها ۴۳۹ اسلامی اصول کی فلاسفی اور مخاطبہ ہے۔ سو جب یہ مکالمہ اور مخاطبہ کافی اور تسلی بخش سلسلہ کے ساتھ شروع ہو جائے اور اس میں خیالات فاسدہ کی تاریکی نہ ہواور نہ غیر ملکی اور چند بے سروپالفظ ہوں اور کلام لذیذ اور پر حکمت اور پُرشوکت ہو تو وہ خدا کا کلام ہے جس سے وہ اپنے بندہ کو تسلی دینا چاہتا ہے اور اپنے تئیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ ہاں کبھی ایک کلام محض امتحان کے طور پر ہوتا ہے اور پورا اور بابرکت سامان ساتھ نہیں رکھتا۔ اس میں خدا تعالیٰ کے بندہ کو اس کی ابتدائی حالت میں آزمایا جاتا ہے تا وہ ایک ذرہ الہام کا مزہ چکھ کر پھر واقعی طور پر اپنا حال وقال بچے ملہموں کی طرح بناوے یا ٹھو کر کھاوے۔ پس اگر وہ حقیقی راستبازی صدیقوں کی طرح (۸۲) اختیار نہیں کرتا تو اس نعمت کے کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور صرف بیہودہ لاف زنی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر انکا مرتبہ خدا کے نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں وہ بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ یعنی بعض نبیوں کو بعض نبیوں پر فضیلت ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الہام محض فضل ہے اور فضیلت کے وجود میں اس کو دخل نہیں بلکہ فضیلت اس صدق اور اخلاص اور وفاداری کی قدر پر ہے جس کو خدا جانتا ہے۔ ہاں الہام بھی اگر اپنی با برکت شرائط کے ساتھ ہو تو وہ بھی ان کا ایک پھل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر اس رنگ میں الہام ہو کہ بندہ سوال کرتا ہے اور خدا اس کا جواب دیتا ہے۔ اسی طرح ایک ترتیب کے ساتھ سوال و جواب ہو اور الہی شوکت اور نور الہام میں پایا جاوے اور علوم غیب یا معارف صیحیحہ پر مشتمل ہو تو وہ خدا کا الہام ہے۔ خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ البقرة :۲۵۴