اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 441
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۵ اسلامی اصول کی فلاسفی انسانی فطرت رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ! یعنی خدا کی فطرت جس پر لوگ پیدا کئے گئے ہیں اور وہ نقش فطرت کیا ہے؟ یہی کہ خدا کو واحد لاشریک، خالق الکل، مرنے اور پیدا ہونے سے پاک سمجھنا اور ہم کانشنس کو علم الیقین کے مرتبہ پر اس لئے کہتے ہیں کہ گو بظاہر اس میں ایک علم سے دوسرے علم کی طرف انتقال نہیں پایا جاتا جیسا کہ دھوئیں کے علم سے آگ کے علم کا ہر طرف انتقال پایا جاتا ہے لیکن ایک قسم کے بار یک انتقال سے یہ مرتبہ خالی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا نے ایک نامعلوم خاصیت رکھی ہے جو بیان اور تقریر میں نہیں آ سکتی لیکن اس چیز پر نظر ڈالنے اور اس کا تصور کرنے سے بلا توقف اس خاصیت کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔ غرض وہ خاصیت اس وجود کو ایسی لازم پڑی ہوتی ہے جیسا کہ آگ کو دھواں لازم ہے مثلاً جب ہم خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ کیسی ہونی چاہیے آیا خدا ایسا ہونا چاہیے کہ ہماری طرح پیدا ہو اور ہماری طرح دکھ اٹھا وے اور ہماری طرح مرے تو معاً اس تصور سے ہمارا دل دکھتا اور کانشنس کا نپتا ہے اور اس قدر جوش دکھلاتا ہے کہ گویا اس خیال کو دھکے دیتا ہے اور بول اٹھتا ہے کہ وہ خدا جس کی طاقتوں پر تمام امیدوں کا مدار ہے۔ وہ تمام نقصانوں سے پاک اور کامل اور قومی چاہیے اور جب ہی کہ خدا کا خیال ہمارے دل میں آتا ہے معاً توحید اور خدا میں دھوئیں اور آگ کی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ ملازمت تامہ کا احساس ہوتا ہے۔ لہذا جو علم ہمیں ہمارے کانشنس کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے (۸۰) وہ علم الیقین کے مرتبہ میں داخل ہے لیکن اس پر ایک اور مرتبہ ہے جو عین الیقین کہلاتا ہے اور اس مرتبہ سے اس طور کا علم مراد ہے کہ جب ہمارے یقین اور اس چیز میں الروم : ٣١