اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 433

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۷ اسلامی اصول کی فلاسفی کو فیض پہنچا رہے ہیں تو انسان جو ان سب سے بڑا کہلاتا ہے اور بڑے درجہ کا پیدا کیا گیا ہے وہ کیونکر ان خواص سے خالی اور بے نصیب ہوگا۔ نہیں بلکہ اس میں بھی سورج کی طرح ایک علمی اور عقلی روشنی ہے جس کے ذریعہ سے وہ تمام دنیا کو منور کر سکتا ہے اور چاند کی طرح وہ حضرت اعلیٰ سے کشف اور الہام اور وحی کا نور پاتا ہے اور دوسروں تک جنہوں نے انسانی کمال ابھی تک حاصل نہیں کیا اس نور کو پہونچاتا ہے پھر کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نبوت باطل ہے اور تمام رسالتیں اور شریعتیں اور کتابیں انسان کی مکاری اور خود غرضی ہے۔ یہ بھی دیکھتے ہو کہ کیوں کر دن کے روشن ہونے سے تمام راہیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ تمام نشیب و فراز نظر آ جاتے ۷۵ ) ہیں۔ سو کامل انسان روحانی روشنی کا دن ہے۔ اس کے چڑھنے سے ہر ایک راہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ وہ بچی راہ کو دکھلا دیتا ہے کہ کہاں اور کدھر ہے کیونکہ راستی اور سچائی کا وہی روز روشن ہے ایسا ہی یہ بھی مشاہدہ کر رہے ہو کہ رات کیسی تھکوں ماندوں کو جگہ دیتی ہے۔ تمام دن کے شکستہ کوفتہ مزدور رات کے کنار عاطفت میں بخوشی ہوتے ہیں اور محنتوں سے آرام پاتے ہیں اور رات ہر ایک کے لئے پردہ پوش بھی ہے۔ ایسا ہی خدا کے کامل بندے دنیا کو آرام دینے کے لئے آتے ہیں۔ خدا سے وحی اور الہام پانے والے تمام عقلمندوں کو جانکاہی سے آرام دیتے ہیں۔ ان کے طفیل سے بڑے بڑے معارف آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی خدا کی وحی انسانی عقل کی پردہ پوشی کرتی ہے جیسا کہ رات پردہ پوشی کرتی ہے۔ اس کی ناپاک خطاؤں کو دنیا پر ظاہر ہونے نہیں دیتی کیونکہ عقلمند وحی کی روشنی کو پا کر اندر ہی اندر اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیتے ہیں اور خدا کے پاک الہام کی برکت سے اپنے تئیں پردہ وری سے بچا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افلاطون کی طرح اسلام کے کسی فلاسفر نے کسی بت پر مرغ کی قربانی نہ چڑھائی چونکہ افلاطون اسلام کی روشنی سے بے نصیب تھا اس لئے دھوکا کھا گیا اور ایسا فلاسفر کہلا کر یہ مکروہ اور احمقانہ حرکت اس سے صادر ہوئی مگر اسلام کے حکماء کو حمد اصل مسودہ میں ” الہام “ کا لفظ مرقوم ہے جو درست معلوم ہوتا ہے۔ (ناشر)