اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 432

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۶ اسلامی اصول کی فلاسفی ہیں کہ خدا کو قسموں کی کیا ضرورت پڑی اور اس نے مخلوق کی کیوں قسمیں کھائیں لیکن چونکہ ان کی سمجھ زمینی ہے نہ آسمانی اس لئے وہ معارف حقہ کو سمجھ نہیں سکتے ۔ سو واضح ہو کہ قسم کھانے سے اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ قسم کھانے والا اپنے دعوے کے لئے ایک گواہی پیش ☆ کرنا چاہتا ہے کیونکہ جس کے دعوے پر اور کوئی گواہ نہیں ہوتا وہ بجائے گواہ کے خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے اس لئے کہ خدا عالم الغیب ہے اور ہر ایک مقصد میں وہ پہلا گواہ ہے۔ گویا وہ خدا کی گواہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اس قسم کے بعد خاموش رہا اور اس پر عذاب نازل نہ کیا تو گویا اس نے اس شخص کے بیان پر گواہوں کی طرح مہر لگا دی۔ اس لئے مخلوق کو نہیں چاہیے کہ دوسری مخلوق کی قسم کھاوے کیونکہ مخلوق عالم الغیب نہیں اور نہ جھوٹی قسم پر سزا دینے پر قادر ہے مگر خدا کی قسم ان آیات میں ان معنوں سے نہیں جیسا کہ مخلوق کی قسم میں مراد لی جاتی ہے بلکہ اس میں یہ سنت اللہ ہے کہ خدا کے دو قسم کے کام ہیں، ایک بدیہی جو سب کی سمجھ میں آسکتے ہیں اور ان میں کسی کو اختلاف نہیں اور دوسرے وہ کام جو نظری ہیں جن میں دنیا غلطیاں کھاتی ہے اور باہم اختلاف رکھتی ہے سوخدا تعالیٰ نے چاہا کہ بدیہی کاموں کی شہادت سے نظری کا موں کو لوگوں کی نظر میں ثابت کرے۔ پس یہ تو ظاہر ہے کہ سورج اور چاند اور دن اور رات اور آسمان اور زمین میں وہ خواص در حقیقت پائے جاتے ہیں جن کو ہم ذکر کر چکے ہیں مگر جو اس قسم کے خواص انسان کے نفس ناطقہ میں موجود ہیں ان سے ہر ایک شخص آگاہ نہیں ۔ سوخدا نے اپنے بدیہی کاموں کو نظری کاموں کے کھولنے کے لئے بطور گواہ کے پیش کیا ہے ۔ گویا وہ فرماتا ہے کہ اگر تم ان خواص سے شک میں ہو جو نفس ناطقہ انسانی میں پائے جاتے ہیں تو چاند اور سورج وغیرہ میں غور کرو کہ ان میں بدیہی طور پر یہ خواص موجود ہیں اور تم جانتے ہو کہ انسان ایک عالم صغیر ہے جس کے نفس میں تمام عالم کا نقشہ اجمالی طور پر مرکوز ہے۔ پھر جب کہ یہ ثابت ہے کہ عالم کبیر کے بڑے بڑے اجرام یہ خواص اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسی طرح پر مخلوقات اصل مسودہ میں ” مقدمہ “ کا لفظ مرقوم ہے جو درست معلوم ہوتا ہے۔ (ناشر)