اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 425
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۹ اسلامی اصول کی فلاسفی جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ لَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ : وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو اور جو کچھ ہم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔ جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجالاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔ چھٹا وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے استقامت کو بیان فرمایا گیا ہے یعنی اس راہ میں درماندہ اور عاجز نہ ہو اور تھک نہ جائے اور امتحان سے ڈر نہ جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ! یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو اور خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ ہم اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں ۔ اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ استقامت سے خدا تعالیٰ ل التوبة: ٢٤١ البقرة : 3 العنكبوت 20 2 حم السجدة: ٣٢٣١